الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ شَرْطِ السَّلَامَةِ مِنَ الْغَيْنِ وَالْحَدَاعِ فِي الْبَيْعِ
تجارت میں غبن اور دھوکے سے سلامتی کی شرط کا بیان
حدیث نمبر: 5916
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَفِي لَفْظٍ مِنْ قُرَيْشٍ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ وَكَانَ فِي لِسَانِهِ لُوثَةٌ فَشَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْقَى مِنَ الْغَبْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ قَالَ يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنِّي أَسْمَعُهُ يُبَايِعُ وَيَقُولُ لَا خِلَابَةَ يُلَجْلِجُ بِلِسَانِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری یا قریشی آدمی سودے میں دھوکہ کھاتا رہتا تھا، اس کی زبان میں اٹکن تھی، پس اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہونے والے خسارے کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: جب تو سودا کرنے لگے تو کہہ: دھوکہ نہ ہو۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا اب بھی میں اس کو یہ اٹک اٹک کر بولتے ہوئے کہتے سن رہا ہوں کہ دھوکہ نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5916]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:2117، 2407، 6964، ومسلم: 1533، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6134»
وضاحت: فوائد: … اس آدمی کو یہ تعلیم دی گئی کہ جب وہ کسی سے سودا کرے تو اسے یہ کہے کہ بھائی سودے میں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ اندازہ کر لیں گے کہ یہ ضعیف رائے والا آدمی ہے، اس لیے وہ اس پر رحم کریں گے، جبکہ وہ رحم و کرم والا زمانہ تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري:2117
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5916 in Urdu