🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ اشْتَرَاطِ مَنْفَعَةِ الْمَبِيعِ وَمَا فِي مَعْنَاهُ
تجارت میں شرطوں کے ابواب فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھانے اور مزید اس قسم کی شرط لگانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5915
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص غلام فروخت کرے اور غلام کے پاس مال ہوتو اس کا مال فروخت کرنے والے کی ملکیت ہو گا اور اس غلام کا قرض بھی اسی بائع کے ذمہ ہو گا، الا یہ کہ خریدار شرط لگا لے۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: 5915]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14325 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14376»
وضاحت: فوائد: … اصل مسئلہ یہ ہے کہ تجارت کی ممنوعہ صورتوں اور شرطوں کا علم ہوناچاہیے، ہر وہ شرط جو شریعت کی کسی شق کی مخالفت نہیں کرتی اور جس سے شریعت نے منع نہیں کیا، وہ جائز ہو گی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3435


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5915
فِيهِ حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَمَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ لِتُعْتِقَهَا وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُهَا لَهُمْ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ انظر فتح الربانی: 2/2300
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے، جب انھوں نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے یہ شرط لگا دی کہ وَلاء ان کی ہو گی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خریدکر آزاد کر دو، وَلاء صرف اسی کی ہوتی ہے، جوآزاد کرتاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الشروط فى البيع/حدیث: Q5915]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2155، 2565، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24554»
وضاحت: فوائد: … وَلاء ایک رشتہ اور تعلق ہے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں، وَلاء صرف آزاد کنندہ کا حق ہے اور یہ حق بھی نسب کی طرح کا ہے، اس لیے نہ اس کو فروخت یا ہبہ کیا جا سکتاہے اور نہ شرط کے ذریعے اصل مستحق کو محروم کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2155


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5915 in Urdu