🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابٌ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 599
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُنَّا نَخْدُمُ أَنْفُسَنَا وَكُنَّا نَتَدَاوَلُ رَعَايَةَ الْإِبِلِ بَيْنَنَا فَأَصَابَنِي رَعَايَةُ الْإِبِلِ فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَكْتُ مِنْ حَدِيثِهِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَغُفِرَ لَهُ) ) قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَجْوَدَ هَذَا! قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ: الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا يَا عُقْبَةُ أَجْوَدُ مِنْهَا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: فَقُلْتُ: مَا هِيَ يَا أَبَا حَفْصٍ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ: ( (مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ) )
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنی آپ کی خدمت خود کرتے تھے اور اونٹ چرانے کے لیے آپس میں باریاں مقرر کرتے تھے، ایک دن میری باری تھی، جب میں شام کو اونٹوں کو واپس لے کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا: ”تم میں سے جو آدمی وضو کرتا ہے اور پورا وضو کرتا ہے، پھر کھڑا ہوتا ہے اور دو رکعتیں اس طرح ادا کرتا ہے کہ اپنے دل اور چہرے کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے، ایسے شخص کے لیے جنت واجب ہو جاتی اور اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“ یہ سن کر میں نے کہا: ”کتنی عمدہ بات ہے یہ،“ لیکن میرے سامنے سے ایک کہنے والے نے کہا: ”عقبہ! جو بات اس سے پہلے ارشاد فرمائی گئی تھی، وہ اس سے بھی عمدہ تھی،“ جب میں نے اس آدمی کو دیکھا تو وہ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، میں نے کہا: ”ابو حفص! وہ بات کون سی تھی؟“ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے آنے سے پہلے یہ ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو آدمی وضو کرتا ہے اور مکمل وضو کرتا ہے، پھر یہ دعا پڑھتا ہے: «أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِيْكَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ» … (میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں ہے، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں)۔ ایسے آدمی کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ ان میں سے جس سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17447»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 234


Al-Fath al-Rabbani Hadith 599 in Urdu