الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابٌ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
حدیث نمبر: 595
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَتَمَّ وَضُوءَهُ ثُمَّ دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ فَأَتَّمَ صَلَاتَهُ خَرَجَ مِنْ صَلَاتِهِ كَمَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ) )
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جب بندہ وضو کرتا ہے اور مکمل وضو کرتا ہے، پھر نماز شروع کر دیتا ہے اور مکمل نماز ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے، جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے باہر آیا ہے۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البزار: 435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 430»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 596
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ دَخَلَ فَصَلَّى غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا) )
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر نماز شروع کی اور اس کو ادا کیا، تو اس کے اور اس کی پڑھی جانے والی اگلی نماز کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 160، ومسلم: 227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 400 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 400»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 597
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وَضُوءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا غُفِرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا اور پھر بغیر بھولے دو رکعتیں ادا کیں تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دے گا۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 905، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17180»
وضاحت: فوائد: … نہ بھولنے کا مطلب یہ ہے کہ مکمل توجہ کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور غفلت میں مبتلا نہ ہوا جائے، اگر کوئی خارجی خیال آ جائے تو شرعی طریقوں کے ذریعے اس کو دور کر دیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 598
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 17/902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17448 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17585»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 599
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُنَّا نَخْدُمُ أَنْفُسَنَا وَكُنَّا نَتَدَاوَلُ رَعَايَةَ الْإِبِلِ بَيْنَنَا فَأَصَابَنِي رَعَايَةُ الْإِبِلِ فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَكْتُ مِنْ حَدِيثِهِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَغُفِرَ لَهُ) ) قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَجْوَدَ هَذَا! قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ: الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا يَا عُقْبَةُ أَجْوَدُ مِنْهَا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: فَقُلْتُ: مَا هِيَ يَا أَبَا حَفْصٍ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ: ( (مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ) )
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنی آپ کی خدمت خود کرتے تھے اور اونٹ چرانے کے لیے آپس میں باریاں مقرر کرتے تھے، ایک دن میری باری تھی، جب میں شام کو اونٹوں کو واپس لے کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا: ”تم میں سے جو آدمی وضو کرتا ہے اور پورا وضو کرتا ہے، پھر کھڑا ہوتا ہے اور دو رکعتیں اس طرح ادا کرتا ہے کہ اپنے دل اور چہرے کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے، ایسے شخص کے لیے جنت واجب ہو جاتی اور اس کو بخش دیا جاتا ہے۔“ یہ سن کر میں نے کہا: ”کتنی عمدہ بات ہے یہ،“ لیکن میرے سامنے سے ایک کہنے والے نے کہا: ”عقبہ! جو بات اس سے پہلے ارشاد فرمائی گئی تھی، وہ اس سے بھی عمدہ تھی،“ جب میں نے اس آدمی کو دیکھا تو وہ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، میں نے کہا: ”ابو حفص! وہ بات کون سی تھی؟“ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے آنے سے پہلے یہ ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو آدمی وضو کرتا ہے اور مکمل وضو کرتا ہے، پھر یہ دعا پڑھتا ہے: «أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِيْكَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ» … (میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں ہے، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں)۔ ایسے آدمی کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ ان میں سے جس سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17447»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 600
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَيُّمَا رَجُلٍ قَامَ إِلَى وَضُوءٍ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَأَحْصَى الْوَضُوءَ إِلَى أَمَاكِنِهِ سَلِمَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ أَوْ خَطِيئَةٍ لَهُ، فَإِنْ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا) )
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نماز کے ارادے سے وضو کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور وضو کے پانی کو اس کے مقامات تک پہنچاتا ہے تو وہ اپنے گناہوں یا غلطیوں سے پاک ہو جاتا ہے، پھر اگر وہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اگر وہ بیٹھ جاتا ہے تو گناہوں سے پاک ہو کر بیٹھتا ہے۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 832، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19667»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 601
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْحِمْصِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْوُضُوءُ يُكَفِّرُ مَا قَبْلَهُ ثُمَّ تَصِيرُ الصَّلَاةُ نَافِلَةً) ) ، فَقِيلَ لَهُ: أَسَمِعْتَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرْتَيْنِ وَلَا ثَلَاثٍ وَلَا أَرْبَعٍ وَلَا خَمْسٍ
سیدنا ابو امامہ حمصی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، پھر نماز زائد ہوتی ہے۔“ کسی نے پوچھا: ”کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں ایک، دو، تین، چار اور پانچ بار نہیں (بلکہ اس سے زیادہ دفعہ)۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 601]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواهده۔ أخرجه الطيالسي: 1129، و ابن ابي شيبة: 1/ 6، والطبراني في الكبير: 7570، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22515»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 602
عَنْ أَبِي غَالِبٍ الرَّاسِبِيِّ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ فَقَامَ إِلَى وَضُوئِهِ إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الْوُضُوءِ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ وَقَامَ إِلَى صَلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ) ) قَالَ أَبُو غَالِبٍ: قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرْتَيْنِ وَلَا ثَلَاثٍ وَلَا أَرْبَعٍ وَلَا خَمْسٍ وَلَا سِتٍّ وَلَا سَبْعٍ وَلَا ثَمَانِيٍ وَلَا تِسْعٍ وَلَا عَشْرٍ وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ
ابو غالب راسبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو امامہ حمصی رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کیے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کسی نماز کی اذان سن کر وضو کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی ہتھیلی کو لگنے والے پانی کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی اس کو بخش دیا جاتا ہے، ان قطروں کی تعداد کے برابر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ وضو سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کیے جا چکے ہوتے ہیں اور اس کی پڑھی جانے والی نماز زائد ہوتی ہے۔“ ابو غالب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا! ایک دفعہ نہیں، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، دس اور دس بار نہیں،“ پھر انہوں نے اس تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے تالی بجائی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 602]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشواهده۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 8071، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22541»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 603
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: إِذَا وَضَعْتَ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ قَعَدْتَّ مَغْفُورًا لَكَ، فَإِنْ قَامَ يُصَلِّي كَانَتْ لَهُ فَضِيلَةً وَأَجْرًا، وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا أُمَامَةَ! أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَ فَصَلَّى تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا النَّافِلَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً وَهُوَ يَسْعَى فِي الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، تَكُونُ لَهُ فَضِيلَةً وَأَجْرًا
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”جب تو وضو کے پانی کو اس کے مقام پر استعمال کرے گا تو بخشا بخشایا بیٹھ جائے گا، پھر اگر کوئی آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اس میں اس کے لیے فضیلت اور اجر و ثواب ہوتا ہے۔“ ایک آدمی نے ان سے کہا: ”اے ابو امامہ! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ایسا آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے، تو اس کی نماز زائد ہو گی؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، یہ زائد ہونا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا۔ عام بندے کے لیے یہ نماز فضیلت اور اجر کا باعث ہو گی۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 603]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل ابي غالب البصري، وھو يعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد اضطرب في ھذا الحديث۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 8062، وأخرجه الطيالسي بنحوه: 1135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22196 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22549»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 604
عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَهُوَ يَتَفَلَّلُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَدْفَنُ الْقَمْلَ فِي الْحَصَى، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ! إِنَّ رَجُلًا حَدَّثَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ غُفِرَ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَا مَشَتْ إِلَيْهِ رِجْلُهُ وَقَضَتْ عَلَيْهِ يَدَاهُ وَسَمِعَتْ إِلَيْهِ أُذُنَاهُ وَنَظَرَتْ إِلَيْهِ عَيْنَاهُ وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسُهُ مِنْ سُوءٍ) ) قَالَ: وَاللَّهِ! لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أُحْصِيهِ
ابو مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مسجد میں بیٹھے جوئیں تلاش کر رہے تھے اور ان کو کنکریوں میں دبا رہے تھے، میں نے کہا: ”اے ابو امامہ! بیشک ایک آدمی نے تمہارے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پس ہاتھ دھوئے، چہرہ دھویا، سر اور کانوں کا مسح کیا اور پھر فرضی نماز کے لیے کھڑا ہوا، تو اس کے اس دن کے وہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے کہ جن کی طرف اس کا پاؤں چل کر گیا، جن کے بارے میں ہاتھوں نے فیصلہ کیا، جن کو کانوں نے سنا، آنکھوں نے دیکھا اور ان کے بارے میں نفس نے بری گفتگو کی۔‘“ انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے یہ حدیث بے شمار دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 604]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه وشواهده۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 8032، وعبد الرزاق: 1745،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22628»
الحكم على الحديث: صحیح