الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلَا بِمِثْلِ
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5993
عَنْ أَبِي ذُهْقَانَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَيْفٌ فَقَالَ لِبِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ائْتِنَا بِطَعَامٍ فَذَهَبَ بِلَالٌ فَأَبْدَلَ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ جَيِّدٍ وَكَانَ تَمْرُهُمْ دُونًا فَأَعْجَبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّمْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ هَذَا التَّمْرُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَبْدَلَ صَاعًا بِصَاعَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا
۔ ابودہقانہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ایک مہمان آیا، آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ سو وہ گئے اور کھجوروں کے دو صاع دے کر ان کے بدلے میں اچھی کھجوروں کا ایک صاع لیا، ان کی اپنی کھجوریں ناقص تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کھجوریں بہت پسند آئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجور کہاں سے آئی ہے؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے دوصاع کے عوض اِن کھجوروں کا ایک صاع لیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہماری کھجوریں واپس لے کر آؤ۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5993]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابويعلي: 5710، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 1028، والدارمي: 2/ 257، والبزار: 1416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4728»
وضاحت: فوائد: … کھجوروں کے ایک صاع کے عوض دو صاع کا لین دین سودی معاملہ ہے، اگلی احادیث میں بھی اسی چیز کو بیان کیا گیا ہے، اس کو ربا الفضل کہتے ہیں، جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه ابويعلي: 5710
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5993 in Urdu