الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلَا بِمِثْلِ
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5994
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا بَعْلًا فِيهِ يَبْسٌ فَقَالَ أَنَّى لَكُمْ هَذَا التَّمْرُ فَقَالُوا هَذَا تَمْرٌ ابْتَعْنَا صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ ذَلِكَ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ ثُمَّ ابْتَعْ حَاجَتَكَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ترو تازہ اور سیرابی کھجوریں لائی گئیں جبکہ آپ کی کھجوروں بارانی تھیں اور ان میں خشکی آ گئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کھجوریں کہاں سے آئی ہیں۔ لوگوں نے کہا: جی ہم نے دو صاع دے کر ان کھجوروں کا ایک صاع لیا ہے، آپ نے فرمایا: یہ سودا درست نہیں ہے، پہلے تم اپنی کھجوریں علیحدہ بیچو، پھر اس کی قیمت سے اس قسم کی اپنی ضرورت پوری کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5994]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 2201، 2202، 2302، 2303، 4244، 7350، ومسلم: 1593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11432»
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 2201
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5994 in Urdu