الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ بَيْعِ الطَّعَامِ مِثْلَا بِمِثْلِ
بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5995
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ قَالَ يَزِيدُ تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ قَالَ يَزِيدُ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں عہد ِ نبوی میں ملی جلی کھجوریں دی جاتی تھیں، اس لیے ہم ان میں سے دو صاع دے کر (اچھی کھجوروں) کا ایک صاع خریدتے تھے، لیکن جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے میں نہیں، گندم کے دو صاع ایک صاع کے عوض نہیں، چاندی کے دو درہم ایک درہم کے بدلے میں نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الربا/حدیث: 5995]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2080، ومسلم: 1595، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11477»
وضاحت: فوائد: … یزید کی روایت میں ”صَاعَا“ کو مرفوع پڑھا گیا ہے، اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہے: ”لَا“ کا عمل باطل ہو گیا،یایہ ”لَا“ مشابہ بلیس ہے یا ”لَا“ کے بعد ”یَصِحُّ“ محذوف ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2080
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5995 in Urdu