الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب
قرض دینے کی فضیلت اور تنگدست پر آسانی کرنے کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: Q6007]
حدیث نمبر: 6007
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنِ ابْنِ أُذْنَانَ قَالَ أَسْلَفْتُ عَلْقَمَةَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ قُلْتُ لَهُ اقْضِنِي قَالَ أَخِّرْنِي إِلَى قَابِلٍ فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ فَأَخَذْتُهَا قَالَ فَأَتَيْتُهُ بَعْدُ قَالَ بَرَّحْتَ بِي وَقَدْ مَنَعْتَنِي قُلْتُ نَعَمْ هُوَ عَمَلُكَ قَالَ وَمَا شَأْنِي قُلْتُ إِنَّكَ حَدَّثْتَنِي عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ السَّلَفَ يَجْرِي مَجْرَى شَطْرِ الصَّدَقَةِ قَالَ نَعَمْ فَهُوَ ذَاكَ قَالَ فَخُذِ الْآنَ
۔ ابن اذ نان کہتے ہیں: میں نے علقمہ کو دوہزار درہم ادھار دیئے،جب ادائیگی کا وقت آیا تو میں نے کہا: میرا قرض ادا کرو، انہوں نے کہا: مجھے آئندہ سال تک مہلت دو، لیکن میں نے مہلت دینے سے انکار کر دیا، پس میں نے اس سے لے لیے، پھر میں اس کے پاس بعد میں آیا، انھوں نے کہا: تو تو میرے ساتھ چمٹ ہی گیا ہے اور تو نے مجھے روک دیا ہے، میں نے کہا: جی ہاں، اور یہ تمہارا اپنا عمل ہی ہے، انھوں نے کہا: میرا کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا: تم نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ادھار نصف صدقہ کے قائم مقام ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، بات ایسے ہی ہے، پھر انھوں نے کہا: تو پھر اب لے لے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6007]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3911»
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2430
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6007 in Urdu