🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب
قرض دینے کی فضیلت اور تنگدست پر آسانی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6007
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنِ ابْنِ أُذْنَانَ قَالَ أَسْلَفْتُ عَلْقَمَةَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ قُلْتُ لَهُ اقْضِنِي قَالَ أَخِّرْنِي إِلَى قَابِلٍ فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ فَأَخَذْتُهَا قَالَ فَأَتَيْتُهُ بَعْدُ قَالَ بَرَّحْتَ بِي وَقَدْ مَنَعْتَنِي قُلْتُ نَعَمْ هُوَ عَمَلُكَ قَالَ وَمَا شَأْنِي قُلْتُ إِنَّكَ حَدَّثْتَنِي عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ السَّلَفَ يَجْرِي مَجْرَى شَطْرِ الصَّدَقَةِ قَالَ نَعَمْ فَهُوَ ذَاكَ قَالَ فَخُذِ الْآنَ
۔ ابن اذ نان کہتے ہیں: میں نے علقمہ کو دوہزار درہم ادھار دیئے،جب ادائیگی کا وقت آیا تو میں نے کہا: میرا قرض ادا کرو، انہوں نے کہا: مجھے آئندہ سال تک مہلت دو، لیکن میں نے مہلت دینے سے انکار کر دیا، پس میں نے اس سے لے لیے، پھر میں اس کے پاس بعد میں آیا، انھوں نے کہا: تو تو میرے ساتھ چمٹ ہی گیا ہے اور تو نے مجھے روک دیا ہے، میں نے کہا: جی ہاں، اور یہ تمہارا اپنا عمل ہی ہے، انھوں نے کہا: میرا کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا: تم نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ادھار نصف صدقہ کے قائم مقام ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، بات ایسے ہی ہے، پھر انھوں نے کہا: تو پھر اب لے لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ السَّلَمِ كِتَابُ الْقَرْضِ وَالدَّيْنِ/حدیث: 6007]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3911»

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2430
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6008
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُهُ وَأَنْ تُكْشَفَ كُرْبَتُهُ فَلْيُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے کہ اس کی دعاقبول ہواور مصیبت چھٹ جائے تو وہ تنگدست کے قرض کے معاملے میں اس پر آسانی پیدا کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ السَّلَمِ كِتَابُ الْقَرْضِ وَالدَّيْنِ/حدیث: 6008]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زيد العمي، ثم ھو منقطع، زيد روايته عن الصحابة مرسلة۔ أخرجه ابو يعلي: 5713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4749»
وضاحت: فوائد: … آسانی سے مراد یہ ہے کہ وہ سارا یا بعض قرضہ معاف کر دے، یا اس کو کچھ دنوں تک مہلت دے دے، یا اس کی ادائیگی پر مقروض کی مدد کرے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف زيد العمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6009
عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ نَجَّى مَكْرُوبًا فَكَّ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ
۔ سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں مسلمان کی عیب پوشی کرے گا، اللہ تعالی دنیا وآخرت میں اس کی عیب پوشی کرے گا،جومصیبت زد ہ کو نجات دلائے گا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے مصائب سے ایک مصیبت سے آزاد کرے گااور جو شخص اپنے بھائی کی مدد میں رہے گا، اللہ تعالی اس کی حاجت پوری کرنے میں رہے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ السَّلَمِ كِتَابُ الْقَرْضِ وَالدَّيْنِ/حدیث: 6009]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 1067، وفي ’’الاوسط‘‘: 8129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:16959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17084»
وضاحت: فوائد: … قرضہ دیناافضل عمل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ قرار دیا ہے، مزید ایک حدیثیہ ہے:
سلیمان بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَہُ صَدَقَۃٌ۔)) قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((مَن أَنْظَرَ مُعْسِراً، فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔)) قُلْتُ: سَمِعْتُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! تَقُوْلُ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً، فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَہُ صَدَقَۃٌ۔)) ثُمَّ سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ: ((مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔))؟ قَالَ: ((لَہُ بِکُلِّیَوْمٍ صَدَقَۃٌ قَبْلَ أَن یَحِلَّ الدَّیْنُ، فَإِذَا حَلَّ الدَّیْنَ فَأَنْظَرَہُ فَلَہُ بِکُلِّ یَوْمٍ مِثْلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔)) … جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اسے ہر روز (قرض کی مقدار) کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا: جس نے کسی تنگ دست کومہلت دی تو اسے ہر روز اس (مقدار) سے دو گنا کے برابر صدقے کا ثواب ملے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہلے یوں فرماتے سنا: جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اسے ہر روز اسی (مقدار) کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ اور پھر یوں سنا: جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اسے ہر روز اس (مقدار) سے دو گنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرض کی ادائیگی سے پہلے تک اسے ہر روز (اتنی ہی مقدار میں) صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا، اور جب (وعدے کے مطابق) قرض واجب الادا ہو جائے لیکن وہ پھر مہلت دے دے، (تو ایسی صورت میں) اسے (اس مقدار) کا دو گناہ ثواب ملے گا۔ (مسند احمد: ۵/۳۶۰)

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 1067
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6010
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْهُ حِينَ غَزَا حُنَيْنًا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَضَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْدُ
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر اس سے تیس یا چالیس ہزار درہم قرض لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ سے واپس تشریف لائے تو اس کو قرضہ اداکیا اور دعا دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی آپ کے اہل اور مال میں برکت دے، ادھار کا صلہ یہی ہے کہ اسے پوراپورا واپس کیاجائے اور اس کی تعریف کرکے شکریہ ادا کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ السَّلَمِ كِتَابُ الْقَرْضِ وَالدَّيْنِ/حدیث: 6010]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2424، والنسائي: 7/ 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16523»
وضاحت: فوائد: … قرض کی ادائیگی کے وقت قرض خواہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور اس کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2424
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6011
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ رَجُلًا أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَالَ لَهُ ائْتِنِي بِشُهَدَاءَ أُشْهِدُهُمْ عَلَيْكَ فَقَالَ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا قَالَ فَائْتِنِي بِكَفِيلٍ قَالَ كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَدَفَعَ إِلَيْهِ أَلْفَ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ وَقَضَى حَاجَتَهُ وَجَاءَ الْأَجَلُ الَّذِي أَجَّلَهُ فَطَلَبَ مَرْكَبًا فَلَمْ يَجِدْهُ فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ وَكَتَبَ صَحِيفَةً إِلَى صَاحِبِهَا ثُمَّ زَجَّجَ مَوْضِعَهَا ثُمَّ أَتَى بِهَا الْبَحْرَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي اسْتَسْلَفْتُ مِنْ فُلَانٍ أَلْفَ دِينَارٍ فَسَأَلَنِي شُهُودًا وَسَأَلَنِي كَفِيلًا فَقُلْتُ كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا فَرَضِيَ بِكَ وَجَهَدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا أَبْعَثُ إِلَيْهِ بِحَقِّهِ فَلَمْ أَجِدْ وَإِنِّي اسْتَوْدَعْتُكَهَا فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ يَنْظُرُ لَعَلَّ مَرْكَبًا يَقْدُمُ بِمَالِهِ فَإِذَا هُوَ بِالْخَشَبَةِ الَّتِي فِيهَا الْمَالُ فَأَخَذَهَا حَطَبًا فَلَمَّا كَسَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ فَأَخَذَهَا فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ قَالَ لَهُ إِنِّي لَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا يَخْرُجُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ أَدَّى عَنْكَ الَّذِي بَعَثْتَ بِهِ فِي الْخَشَبَةِ فَانْصَرَفَ بِالْأَلْفِ رَاشِدًا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کے ایک آدمی نے کسی سے ایک ہزار دینار ادھار لینے کا سوال کیا۔ اس نے کہا: کوئی گواہ لاؤ، جسے میں تجھ پر گواہ بنا سکوں۔ اس نے کہا: اللہ ہی بطورِ گواہ کافی ہے۔ اس نے کہا: تو پھر کوئی کفیل لاؤ۔ اس نے کہا: اللہ ہی بطورِ کفیل کافی ہے۔ اس نے کہا: تو نے سچ کہا ہے۔ پس اس نے اسے ایک مقررہ وقت تک ایک ہزار دینار قرضہ دے دیا۔ وہ آدمی سمندر کی طرف روانہ ہو گیا اور اپنی ضرورت پوری کی۔ جب مقررہ وقت آ پہنچاتو اس نے کوئی سواری تلاش کی، لیکن نہ مل سکی۔ سو اس نے ایک لکڑی لی اور اس میں کھدائی کر کے ایک ہزار دینار رکھ دیا اور ان کے مالک کی طرف ایک خط لکھا اور (لوہے وغیرہ کے ذریعے اس سوراخ کو) بند کر دیا، پھر وہ لکڑی لے کر سمندر کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ! تو جانتاہے کہ میں نے فلاں آدمی سے ایک ہزار دینا ادھار لیا تھا، جب اس نے مجھ سے شاہد اور کفیل کا مطالبہ کیا تو میں نے کہا تھا کہ اللہ ہی بطورِ کفیل کافی ہے۔ وہ (تیری کفالت پر) راضی ہو گیا تھا اور اب میں نے سواری تلاش تو کی تاکہ اس کا حق اس تک پہنچا دوں، لیکن سواری نہیں مل رہی۔ اب میں اس مال کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔ پھر اس نے وہ لکڑی سمندر میں پھینک دی۔ اُدھرادھار دینے والا آدمی اس غرض سے نکلا کہ شاید (کوئی سوار) کسی سواری پر سوار ہو کر (میرا قرضہ چکانے کے لیے) میرا مال لے کر آ رہا ہو۔ اچانک (اسے سمندر کے کنارے پر) ایک لکڑی نظر آئی جس میں اس کا مال تھا۔ اس نے ایندھن کا کام لینے کے لیے وہ لکڑی اٹھا لی، جب اسے توڑا تو اسے مال اور خط موصول ہوا، اس نے وہ لے لیا۔ بعد میں قرضہ لینے والا آدمی (ایک ہزار دینار لے کر) خود بھی پہنچ گیا اور کہا: مجھے کوئی سواری نہیں مل سکی تھی (لہٰذا اب یہ قرضہ چکانے آیا ہوں)۔ قرضہ دینے والے نے کہا: اللہ تعالی نے مجھ تک وہ چیز پہنچا دی، جو تو نے لکڑی میں بھیجی تھی۔ سو وہ کامیاب ہو کر واپس پلٹ گیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ السَّلَمِ كِتَابُ الْقَرْضِ وَالدَّيْنِ/حدیث: 6011]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2063، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8571»
وضاحت: فوائد: … قرض کی ادائیگی کامعاملہ تو واضح طور پر ثابت ہو رہا ہے، اس نکتے پر بھی غور کرنا چاہیے کہ جب آدمی اللہ تعالی کو حقیقی گواہ اور کفیل تسلیم کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اپنی شان کے مطابق اس آدمی کو صلہ دیتے ہیں، غور کریں کہ اللہ تعالی نے اس لکڑی کو متعلقہ بندے تک کیسے پہنچایا۔ لیکن جب اس بندے نے دیکھا کہ اس نے اللہ تعالی پر بھروسہ کر کے رقم تو بھیج دی ہے، لیکن شرعی قوانین کے مطابق اس نے حق ادا نہیں کیا، اس لیے وہ قرض خواہ کے پاس پہنچا، لیکن اس نے صدق و امانت کا ثبوت دیتے ہوئے لکڑی کے مل جانے کا اقرار کیا۔ سبحان اللہ وکفی باللہ وکیلا۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2063
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6012
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِنِي ثَمَنَ بَكْرِي فَقَالَ أَجَلْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا نَجِيبَةً قَالَ فَقَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي قَالَ وَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِنِي بَكْرِي فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا قَدْ أَسَنَّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ مِنْ بَكْرِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَيْرَ الْقَوْمِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک اونٹ فروخت کیا، پھر جب میں اس کی قیمت کا تقاضا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اونٹ کی قیمت اداکیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: ہاں ضرور، بلکہ میں تجھے عطا نہیں کروں گا، مگر اس سے عمدہ اونٹ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرا قرض چکایا اور اچھی ادائیگی کی، اتنے میں ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرےاونٹ کی قیمت ادا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بڑا اونٹ عطا کیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اونٹ تو میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص قوم کا بہترین فرد ہے، جو ادائیگی کے لحاظ سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ السَّلَمِ كِتَابُ الْقَرْضِ وَالدَّيْنِ/حدیث: 6012]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 291، وابن ماجه: 2286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17279»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 291
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6013
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ میراقرض تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مجھے ادا کیا اور زیادہ بھی دیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ السَّلَمِ كِتَابُ الْقَرْضِ وَالدَّيْنِ/حدیث: 6013]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 443، 2394، 2603، ومسلم: 715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14284»
وضاحت: فوائد: … قرضہ اس لالچ میں دینا درست نہیں ہے کہ ادائیگی کے وقت اس سے بہتر چیز مل جائے گی، البتہ قرض دار اپنی طرف سے بہتر انداز میں ادائیگی کر سکتا ہے، بہرحال قرض خواہ کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس قسم کی حرص رکھے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 443
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6014
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا فَأَتَتْهُ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ أَعْطُوهُ فَقَالُوا لَا نَجِدُ لَهُ إِلَّا رَبَاعِيًا خِيَارًا قَالَ أَعْطُوهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے ادھار اونٹ لیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِس کو اس کااونٹ دے دو۔ صحابہ نے کہا: اب تو ہمارے پاس چار دانتوں والا (چھ سال عمر والا) ہی بچا ہے،جو اس کے اونٹ سے اچھا اور بہتر اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی اِس کو دے دو، کیونکہ لوگوں میں بہترین آدمی وہی ہے، جواچھے طریقے سے قرض کی ادائیگی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ السَّلَمِ كِتَابُ الْقَرْضِ وَالدَّيْنِ/حدیث: 6014]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1600، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27723»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1600
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6015
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ وَفِي لَفْظٍ يَتَقَاضَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فَأَغْلَظَ لَهُ قَالَ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا قَالَ اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ وَفِي لَفْظٍ الْتَمِسُوا لَهُ مِثْلَ سِنِّ بَعِيرِهِ قَالُوا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ قَالَ فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَيْرَكُمْ خَيْرُكُمْ قَضَاءً
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک اونٹ کے قرض کی ادائیگی کامطالبہ کردیا اور سخت رویہ اختیار کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے ساتھ کوئی کاروائی کرنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑدو، جس نے حق لیناہوتاہے، وہ باتیں کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اونٹ خرید کر اس کو ادا کرو۔ صحابہ نے کہا:اس کے اونٹ سے بہتر عمر والا اونٹ ہی میسر آ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی خرید کر دے دو، بے شک بہتر وہی ہے، جو قرض کی ادائیگی اچھے انداز میں کرتاہے۔ دیہاتی نے کہا:آپ نے مجھے میرے حق سے زیادہ دیا ہے، اللہ تعالی بھی آپ کو زیادہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے، جو بہتر طورپر قرض ادا کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ السَّلَمِ كِتَابُ الْقَرْضِ وَالدَّيْنِ/حدیث: 6015]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2306، 2390، 2401، 2606، 2609، ومسلم: 1601، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9379»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صبروتحمل، انصاف پسندی اور قر ض کی حسن ادائیگی پر دلالت کرتی ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2306
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6016
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ بِسَمَاحَتِهِ قَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا
۔ قرضہ اس لالچ میں دینا درست نہیں ہے کہ ادائیگی کے وقت اس سے بہتر چیز دی جائے گی، البتہ قرض دار اپنی طرف سے بہتر انداز میں ادائیگی کر سکتا ہے، بہرحال قرض خواہ کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس قسم کی حرص رکھے۔(یہ عبارت شرح کی ہے اس کی وجہ سے نمبرنگ بھی خراب ہو گئی ہےپھر 6025 چونکہ مسنگ ہے اس لیے اس کے بعد نمبرنگ صحیح ہو گئی ہے) [الفتح الربانی/كِتَابُ السَّلَمِ كِتَابُ الْقَرْضِ وَالدَّيْنِ/حدیث: 6016]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6963»

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں