الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب
قرض دینے کی فضیلت اور تنگدست پر آسانی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6010
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْهُ حِينَ غَزَا حُنَيْنًا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَضَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْدُ
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر اس سے تیس یا چالیس ہزار درہم قرض لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ سے واپس تشریف لائے تو اس کو قرضہ اداکیا اور دعا دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی آپ کے اہل اور مال میں برکت دے، ادھار کا صلہ یہی ہے کہ اسے پوراپورا واپس کیاجائے اور اس کی تعریف کرکے شکریہ ادا کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6010]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2424، والنسائي: 7/ 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16523»
وضاحت: فوائد: … قرض کی ادائیگی کے وقت قرض خواہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور اس کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2424
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6010 in Urdu