یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. الفصل الثاني فيما روي فى ذلك عن على بن أبى طالب رضي الله عنه
سیدنا علی بن ابو طالبؓ سے مروی حدیث کا بیان
حدیث نمبر: 621
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْتِي فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَجِئْنَا بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِيبَهُ حَتَّى وَضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَدْ بَالَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! أَلَا أَتَوَضَّأُ لَكَ وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ: فَوُضِعَ لَهُ إِنَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيْهِ فَصَكَّ بِهِمَا وَجْهَهُ وَأَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ قَالَ: ثُمَّ عَادَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ ثُمَّ أَرْسَلَهَا تَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَدَهُ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مِنْ ظُهُورِهِمَا ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ مِنَ الْمَاءِ فَصَكَّ بِهِمَا عَلَى قَدَمَيْهِ وَفِيهِمَا النَّعْلُ ثُمَّ قَلَبَهَا بِهَا ثُمَّ عَلَى الرِّجْلِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے گھر میں داخل ہوئے اور وضو کا پانی منگوایا اور ہم ایک ایسا چھوٹا سا برتن لے آئے، جس میں تقریباً ایک مد پانی آتا، حتیٰ کہ وہ برتن آپ کے سامنے رکھ دیا گیا، جبکہ وہ پیشاب بھی کر چکے تھے، انہوں نے کہا: ”اے ابن عباس! کیا میں تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہ کر دوں؟“ میں نے کہا: ”جی، کیوں نہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،“ پس ان کے لیے برتن رکھ دیا گیا، انہوں نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک کو جھاڑا، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لیا اور چہرے پر مارا اور کانوں کے سامنے والے حصے میں انگوٹھے ڈالے، پھر تین دفعہ یہ عمل دوہرایا، پھر دائیں ہاتھ سے پانی کا ایک چلو لے کر اس کو سر کے اگلے حصے پر ڈالا اور وہ چہرے پر بہنے لگا، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین بار دھویا، پھر دوسرے ہاتھ کو اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر اور کان کے ظاہری حصے کا مسح کیا، پھر دونوں ہتھیلیوں سے پانی لیا اور اپنے پاؤں پر مارا، جبکہ جوتے بھی پہنے ہوئے تھے، پھر اپنے پاؤں کو الٹ پلٹ کیا، پھر دوسرے پاؤں پر بھی اسی طرح کیا۔ میں نے کہا: ”کیا جوتوں سمیت وضو؟“ انہوں نے کہا: ”جی جوتوں سمیت،“ میں نے کہا: ”کیا جوتوں سمیت؟“ انہوں نے کہا: ”جی جوتوں سمیت،“ میں نے کہا: ”کیا جوتوں سمیت؟“ انہوں نے کہا: ”جی جوتوں سمیت۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 621]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود:117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 625»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں وضو سے متعلقہ تین اضافی امور کاذکر بھی ہے: اگر چہرہ دھوتے وقت کانوں کے سامنے والے حصے میں انگوٹھے پھیر لیے جائیں تو سرکا مسح کرتے وقت صرف کانوں کے بیرونی حصے کا مسح کیا جائے گا۔ تین دفعہ چہرہ دھونے کے بعد سر کے اگلے حصے پر ایک چلو پانی ڈال دیا جائے۔جوتے سمیت پاؤں کو دھو لینا، لیکن یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ پورا پاؤں تر ہو جائے کوئی حصہ خشک نہ رہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 621 in Urdu