الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. قبول هدايا الكفار
کافروں کے ہدیے قبول کرنا
حدیث نمبر: 6278
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ أَسْعَدَ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ عَلَى ابْنَتِهَا أَسْمَاءَ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ بِهَدَايَا ضِبَابٍ وَأَقِطٍ وَسَمْنٍ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَأَنْ تُدْخِلَهَا بَيْتَهَا
۔ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قتیلہ بنت عبد العزی ضب، پنیر اور گھی کے ہدیے لے کر اپنی بیٹی سیدہ اسماء بنت ِ ابو بکر رضی اللہ عنہما کے پاس آئی، جبکہ وہ مشرک خاتون تھی، سو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اس کے تحائف قبول کرنے سے اور اس کو اپنے گھر داخل کرنے سے انکار کر دیا، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی: {لَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْآ اِلَیْھِمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ۔} … جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ اچھا برتاؤ کرنے سے اللہ تعالی تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالی تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ ممتحنۃ: ۸) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ اسماء کو حکم دیا کہ وہ اپنی ماں کے تحفے قبول کرے اور اس کو اپنے گھر میں داخل کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6278]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت۔ أخرجه ابوداود الطيالسي: 1639، والحاكم: 2/ 485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16210»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی مذکورہ روایات تو ضعیف ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مواقع پر غیر مسلموں سے تحفے قبول کیے ہیں، مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسری (ایران کے بادشاہ)، قیصر (روم کے بادشاہ) اور مختلف بادشاہوں کے تحائف قبول کئے۔ (ترمذی) دومۃ الجندل کے سردار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی جبہ بطور ہدیہ پیش کیا۔ (بخاری) یہودی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر آلود بکری کا ہدیہ دیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا تھا۔ (بخاری، مسلم) اگلے باب کے آخر میں اس مسئلے کا حل دیکھیں۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت۔ أخرجه ابوداود الطيالسي: 1639
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6278 in Urdu