🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ النَّهْي أَنْ يَرْجِعَ الرَّجُلُ فِي هِيَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ
والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6297
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَسْتَرِدُّ مَا وَهَبَ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ فَيَأْكُلُ مِنْهُ وَإِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاهِبُ فَلْيُوقِفْ بِمَا اسْتَرَدَّ ثُمَّ لِيَرُدَّ عَلَيْهِ مَا وَهَبَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی مثال جو ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لیتا ہے، اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرتا ہے اور پھر اس کو چاٹتا ہے، ہبہ کرنے والا جب واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کو کھڑا کر کے اس سے واپسی کی وجہ پوچھی جائے اور پھر اس کووہ چیز واپس کر دی جائے، جو اس نے ہبہ کی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل الهبة والهدية/حدیث: 6297]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3540، والترمذي: 2131، وابن ماجه: 2377، والنسائي: 6/ 265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6629»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے پہلے حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی مثال بیان کر کے ہبہ کرنے والے کو اس کمینے پن سے باز رہنے کی تلقین فرمائی۔ حدیث ِ مبارکہ کے دوسرے حصے کے دو مفہوم بیان کیے گئے ہیں:
(۱) جب کوئی آدمی ہبہ کی ہوئی چیز کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے تو اس سے ایسا کرنے کا سبب دریافت کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ اس کا مقصود یہ ہو کہ ہبہ وصول کرنے والا اسے بھی متبادل دے گا، تو پھر ممکن ہو گا کہ وہ اسے متبادل دے دے اور وہ اپنا ہبہ واپس نہ لے اور متبادل نہ ہونے کی صورت میں اس کو اس کی ہبہ کی ہوئی چیز واپس کر دی جائے۔
(۲) جو آدمی ہبہ دے اور پھر واپس لینے کا مطالبہ کرے، اسے کھڑا کر لیا جائے اور اس کیلئے ہبہ کے مسئلہ کی وضاحت کی جائے، تاکہ اسے بھی علم ہو جائے، مثلا اس سے کہا جائے کہ ہبہ دینے والے کو جب تک متبادل نہ دیا جائے تو وہ اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کا مستحق تو ہے، لیکن ہو گا وہ اس کتے کی طرح، جو قے کر کے چاٹنے لگ جاتا ہے، اب اگر تو چاہتا ہے تو پھر اس کتے کی مانند ہو جا، جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے اور اگرتوں چاہتا ہے کہ کتے کی تشبیہ سے بچ سکے تو یہ مطالبہ نہ کر، اگر اتنی وضاحت کے بعد بھی وہ واپسی کا مطالبہ کرے تو اس کی چیزاس کو دے دی جائے۔ (دیکھئے: عون المعبود: ۳۵۴۰)

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3540


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6297 in Urdu