یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب ما جاء فى ميراث الجد
جدّ کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 6365
عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ عَنْ فَرِيضَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَدِّ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ، فَقَالَ: قَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَاذَا؟ قَالَ: السُّدُسُ، قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا
۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے وراثت سے جدّ کے فرضی حصے کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا: کیا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھٹا حصہ دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کن افراد کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے مسئلہ سمجھا ہی نہیں، تجھے یہ کیا کفایت کرے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6365]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 2897، وابن ماجه: 2723، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20576»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6365 in Urdu