الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الْقَضَاءِ وَالْوِلَايَةِ وَنَحْوِهَا بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْحُكّامِ الْجَائِرِينَ وَفَضْل الْمُقْسِطِينَ
قضا اور امارت کی حرص رکھنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 6392
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ: لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ، أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ) ) قَالَ عُثْمَانُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي، فَأَعْفَاهُ وَقَالَ: لَا تُخْبِرْ بِهَذَا أَحَدًا
۔ یزید بن موہب سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: لوگوں کے ما بین فیصلہ کرو، انھوں نے کہا: میں دوآدمیوں کے مابین قاضی بنوں گا نہ دو آدمیوں کا امام بنوں گا، اے عثمان! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جس نے اللہ تعالی کے ساتھ پناہ مانگی، اس نے بہت بڑی پناہ مانگی؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی، کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر میں اس بات سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے عامل بنائیں، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو معاف کر دیا، لیکن کہا: کسی اور کو یہ حدیث بیان نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6392]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 5056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 475»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 5056
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6392 in Urdu