🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ كَرَاهَةِ الْحِرْصِ عَلَى الْقَضَاءِ وَالْوِلَايَةِ وَنَحْوِهَا بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْحُكّامِ الْجَائِرِينَ وَفَضْل الْمُقْسِطِينَ
قضا اور امارت کی حرص رکھنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6392
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ: لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ، أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ) ) قَالَ عُثْمَانُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي، فَأَعْفَاهُ وَقَالَ: لَا تُخْبِرْ بِهَذَا أَحَدًا
۔ یزید بن موہب سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: لوگوں کے ما بین فیصلہ کرو، انھوں نے کہا: میں دوآدمیوں کے مابین قاضی بنوں گا نہ دو آدمیوں کا امام بنوں گا، اے عثمان! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جس نے اللہ تعالی کے ساتھ پناہ مانگی، اس نے بہت بڑی پناہ مانگی؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی، کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر میں اس بات سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے عامل بنائیں، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو معاف کر دیا، لیکن کہا: کسی اور کو یہ حدیث بیان نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6392]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 5056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 475»

الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 5056
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6393
عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَرَادَ الْحَجَّاجُ أَنْ يَجْعَلَ ابْنَهُ عَلَى قَضَاءِ الْبَصْرَةِ، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِّلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ حجاج نے ان کے بیٹے کو بصرہ پر قاضی مقرر کرنا چاہا تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا طلب کیا اور دوسرے کے تعاون سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے اس عہدے کے سپرد کر دیا جائے گا اور جو آدمی نہ اس کو طلب کرتا ہے اور نہ اس کے حصول کے لئے دوسروں کا تعاون لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے فرشتہ نازل کرے گا، جو درستی کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6393]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف عبد الاعلي الثعلبي، وضعف بلال بن ابي موسي۔ أخرجه ابوداود: 3587، والترمذي: 1323، وابن ماجه: 2309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13335»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6394
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِّلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ فَيُسَدِّدُهُ) )
۔ (دوسری سند)سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا خود طلب کیا وہ اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور جسے زبردستی دیا گیا، اس پر ایک فرشتہ نازل ہو گا، جو بہتری کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6394]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12208»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث سے یہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے:سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ سَمُرَۃَ! لَا تَسْأَلِ الْاَمَارَۃَ، فَاِنَّکَ اِنْ اُوْتِیْتَھَا عَنْ مَسْاَلَۃٍ وُکِلْتَ اِلَیْھَا، وَاِنْ اُوْتِیْتَھَا مِنْ غَیْرِ مَسْاَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلَیْھَا۔)) (صحیح بخاری: ۶۶۲۲، صحیح مسلم: ۱۶۵۲) اے عبد الرحمن بن سمرہ! تو خود امارت کا سوال نہ کر، کیونکہ اگر یہ تجھے سوال کرنے کی بنا پر دی گئی تو تجھے اس کے سپر د کر دیا جائے گا اور اگر یہ تجھے سوال کے بغیر دی گئی تو تیری مدد کی جائے گی۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12208
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6395
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَاكَرْتُهَا حَتَّى ذَكَرْنَا الْقَاضِيَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْقَاضِي الْعَدْلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَاعَةٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي تَمْرَةٍ قَطُّ) )
۔ عمران بن حطان کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا اور ان سے مذاکرہ کرنے لگا، یہاں تک کہ قاضی کے عہدے کا ذکر ہونے لگا، اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قاضی پر قیامت کے روز ایک گھڑی ایسی آئے گی کہ وہ یہ آروز کرے گا کہ کاش کہ اس نے دوآدمیوں کے درمیان ایک کھجور کا بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6395]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صالح بن سرج وعمرو بن العلاء الشني من رجال التعجيل۔ أخرجه الطيالسي: 1546، والبيھقي: 10/ 96، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24968»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6396
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے لوگوں پر قاضی مقرر کیا گیا، اسے گویا چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6396]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3571، والترمذي: 1325، وابن ماجه: 2308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8762»
وضاحت: فوائد: … یقینا امت ِ مسلمہ کے لیے قاضی اور حاکم کا ہونا ضروری ہے اور وہ لوگ بڑے خوش بخت اور سعادت مند ہیں جو عہدہ ٔ قضا پر فائز ہونے کے بعد عدل و انصاف کے ترازو کو تھامے رکھتے ہیں، جبکہ ایسے لوگ بہت کم ہیں، حکمرانوں اور قاضیوں کی اکثریت عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہ کر سکی اور ان کی وجہ سے عوام الناس پر بڑا ظلم و ستم ڈھایا گیا۔
عدل و انصاف والے پہلو کو دیکھ کر شریعت ِ مطہرہ میں اس شعبے کی مدح سرائی کی جاتی ہے اور ظلم و تعدی والے پہلو کو دیکھ کر اس کی مذمت کی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3571
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں