الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب كراهة الحرص على القضاء والولاية ونحوها باب التشديد على الحكام الجائرين وفضل المقسطين
قضا اور امارت کی حرص رکھنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 6394
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِّلَ إِلَيْهِ، وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ فَيُسَدِّدُهُ) )
۔ (دوسری سند)سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا خود طلب کیا وہ اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور جسے زبردستی دیا گیا، اس پر ایک فرشتہ نازل ہو گا، جو بہتری کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6394]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12208»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث سے یہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے:سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ سَمُرَۃَ! لَا تَسْأَلِ الْاَمَارَۃَ، فَاِنَّکَ اِنْ اُوْتِیْتَھَا عَنْ مَسْاَلَۃٍ وُکِلْتَ اِلَیْھَا، وَاِنْ اُوْتِیْتَھَا مِنْ غَیْرِ مَسْاَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلَیْھَا۔)) (صحیح بخاری: ۶۶۲۲، صحیح مسلم: ۱۶۵۲) ”اے عبد الرحمن بن سمرہ! تو خود امارت کا سوال نہ کر، کیونکہ اگر یہ تجھے سوال کرنے کی بنا پر دی گئی تو تجھے اس کے سپر د کر دیا جائے گا اور اگر یہ تجھے سوال کے بغیر دی گئی تو تیری مدد کی جائے گی۔“
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12208
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6394 in Urdu