الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب التعليظ والوعيد الشديد فى قتل المؤمن
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
حدیث نمبر: 6449
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَا جَرِيرُ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے جریر! لوگوں کو خاموش کراؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6449]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 121، 4405، 7080، ومسلم: 65، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19381»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کا قتل، ترکِ نماز کی طرح کفریہ عمل ہے، اس سے ایمان اور اسلام میں بہت بڑا نقص پیدا ہو جاتا ہے، لیکن ایسا کرنے والا اعتقادی کافر نہیں ہو گا، جس کی سزا ہمیشہ کے لیے آگ ہو گی۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 121
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6449 in Urdu