الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ التَّعْلِيظِ وَالْوَعِيدِ الشَّدِيدِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
حدیث نمبر: 6440
عَنْ شَقِيقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جو فیصلہ کیا جائے گا، وہ خونوں کے بارے میں ہوگا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6440]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6533، 6864، ومسلم: 1678، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3674 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3674»
وضاحت: فوائد: … حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کا اور حقوق العباد میں سب سے پہلے خون کا محاسبہ کیا جائے گا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے سامنے اس پر کئے گئے احسانات کا تذکرہ کرے گا تو سب سے پہلے صحت اور ٹھنڈے پانی کے بارے میں محاسبہ ہو گا،جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَنْ یُّقَالَ لَہٗ: اَلَمْاُصِحَّلَکَجِسْمَکَ،وَاُرْوِکَمِنَالْمَائِالْبَارِدِ؟)) … ”روزِقیامت بندے کا سب سے پہلے محاسبہ یوں ہو گا کہ اسے کہا جائے گا: کیا میں نے تیرے جسم کو تندرست نہیں کیا تھا، کیا میں نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا۔“ (ترمذی: ۲/ ۲۴۰،صحیحہ: ۵۳۹)
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَنْ یُّقَالَ لَہٗ: اَلَمْاُصِحَّلَکَجِسْمَکَ،وَاُرْوِکَمِنَالْمَائِالْبَارِدِ؟)) … ”روزِقیامت بندے کا سب سے پہلے محاسبہ یوں ہو گا کہ اسے کہا جائے گا: کیا میں نے تیرے جسم کو تندرست نہیں کیا تھا، کیا میں نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا۔“ (ترمذی: ۲/ ۲۴۰،صحیحہ: ۵۳۹)
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6533
حدیث نمبر: 6441
عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا الرَّجُلَ يَمُوتُ كَافِرًا وَالرَّجُلَ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ، جو کہ کم احادیث بیان کرنے والے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرگناہ معاف کر دے، مگر وہ آدمی جو کفر کی حالت میں مرتا ہے اور جو جان بوجھ کر مؤمن کو قتل کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6441]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17031»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّ الّذَیِنْ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ اُولٰئِکَ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔} … ”بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ اس حال میں ہی مر گئے کہ وہ کافر تھے، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“ (سورۂ بقرہ:۱۶۱)
مومن کو قتل کرنا سنگین جرم ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗجَھَنَّمُخَالِدًافِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗوَاَعَدَّلَہٗعَذَابًاعَظِیْمًا۔} … ”اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔“ (سورۂ نسائ:۹۳)
مذکورہ بالا دو جرائم میں اس اعتبار سے یکسانیت پائی جاتی ہے کہ توبہ تائب ہو جانے کی وجہ سے معاف ہو جاتے ہیں، لیکن اسی حالت میں مر جانے کی صورت میں کفر نا قابل معافی جرم ہے اور قتل قابل معافی، مومن کا قاتل ابدی جہنمی نہیں ہو گا، دوسری نصوص کی روشنی میں اس آیت کو سخت وعید پر محمول کیا جائے گا۔
مومن کو قتل کرنا سنگین جرم ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗجَھَنَّمُخَالِدًافِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗوَاَعَدَّلَہٗعَذَابًاعَظِیْمًا۔} … ”اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔“ (سورۂ نسائ:۹۳)
مذکورہ بالا دو جرائم میں اس اعتبار سے یکسانیت پائی جاتی ہے کہ توبہ تائب ہو جانے کی وجہ سے معاف ہو جاتے ہیں، لیکن اسی حالت میں مر جانے کی صورت میں کفر نا قابل معافی جرم ہے اور قتل قابل معافی، مومن کا قاتل ابدی جہنمی نہیں ہو گا، دوسری نصوص کی روشنی میں اس آیت کو سخت وعید پر محمول کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 81
حدیث نمبر: 6442
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا يَوْمُنَا هَذَا قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالُوا شَهْرُنَا هَذَا قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً قَالَ بَلَدُنَا هَذَا قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا
۔ سیدنا جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے پوچھا: وہ کون سا دن ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہی ہمارا دن۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کون سا مہینہ ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا: یہی ہمارا ذوالحجہ کا مہینہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کونسا شہر ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انھوں نے کہا: یہی ہمارا شہر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6442]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14418»
وضاحت: فوائد: … شریعت ِ مطہرہ کے نزدیک مسلمان کے خون، عزت اور مال کی جس قدر عظمت و حرمت زیادہ تھی، اتنا ہی ہمارے معاشرے کے افراد نے اس عظمت کو خوب پامال کیا ہے، آج مسلمان کی شان اس کے اسلام میں نہیں ہے، بلکہ ساری کی ساری عزت و غیرت کو مال و زر میں پنہاں سمجھ لیا گیا ہے، درہم و دینار والے کا وقار ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہمارے معیار میں سب سے پہلے اسلام کی رو رعایت ہو، پھر دوسرے امور کو ترجیح دی جائے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 27
حدیث نمبر: 6443
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى قَالَ وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ يَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّكُمْ وَمَا نَسَخَهَا بَعْدَ إِذْ أَنْزَلَهَا قَالَ وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى
۔ سالم بن ابی جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی نے دریافت کیا کہ ایک آدمی ایک مؤمن کو قتل کرتا ہے، لیکن پھر توبہ کر لیتا ہے،ایمان لے آتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور ہدایت یافتہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: بڑا افسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کے لئے ہدایت کہاں سے آئے گی؟ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: مقتول اپنے قاتل کے ساتھ چمٹ کر آئے گا اور کہے گا: اے میر ے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے تمہارے نبی پر اس آیت کو نازل کیا اور اس کو نازل کرنے کے بعد منسوخ نہیں کیا۔ بڑا فسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کو ہدایت کہاں سے ملے گی؟ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6443]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 7/ 85، وابن ماجه: 2621، وأخرج بنحوه الترمذي: 3029، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1941»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی مراد یہ آیت ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗجَھَنَّمُخَالِدًافِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗوَاَعَدَّلَہٗعَذَابًاعَظِیْمًا۔} … ”اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذات تیار کیا ہے۔“ (سورۂ نسائ:۹۳)
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 7/ 85
حدیث نمبر: 6444
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَتَلَ مُؤْمِنًا قَالَ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَقْتُولَ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا رَأْسَهُ بِيَمِينِهِ أَوْ قَالَ بِشِمَالِهِ آخِذًا صَاحِبَهُ بِيَدِهِ الْأُخْرَى تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا فِي قِبَلِ عَرْشِ الرَّحْمَنِ فَيَقُولُ رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي
۔ (دوسری سند) ایک آدمی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: اے ابن عباس!اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مومن کو قتل کر دیتا ہے؟ انھوں نے کہا:اس کی ماں اسے گم پائے، اس کے لیے توبہ کہاں سے آئے گی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ بیشک مقتول قیامت والے دن اپنے دائیں یا بائیں کے ساتھ اپنے سر کو پکڑ کر اور دوسرے ہاتھ سے اپنے قاتل کو پکڑ کر رحمن کے عرش کی طرف لائے گا،جبکہ اس کی رگیں خون بہا رہی ہوں گی، اور وہ کہے گا: اے میرے ربّ! اس سے پوچھو، اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6444]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2683»
وضاحت: فوائد: … یہ نظریہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا تھا، لیکن بعد والے اہل علم نے ان کے ساتھ اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ توبہ سے قاتل کا گناہ زائل ہو سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ توبہ کے ذریعے تو کفر و شرک جیسے جرائم معاف ہو جاتے ہیں، ان سے ہلکے درجے کے گناہ معاف کیوں نہیں ہوں گے۔ اہل سنت نے سورۂ نساء کی اس آیت کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ اگر کوئی آدمی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کے بعد اور توبہ کیے بغیر مر جاتا ہے تو اس کی معافی پھر بھی ممکن ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {اَنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖوَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَائُ} (النسائ:۴۸) ”بیشک اللہ تعالی اس جرم کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اس کے علاوہ جو گناہ ہو، وہ جس کیلئے چاہے معاف کر دیتا ہے۔“
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2683
حدیث نمبر: 6445
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ وَحُرْمَةُ مَالِهِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا اپنے بھائی کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور مسلمان کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی مانند ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6445]
تخریج الحدیث: «أخرجه دون الفقرة الاخيرة البخاري: 48، ومسلم: 64، وھذه الفقرة صحيحة بالشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4262»
الحكم على الحديث: أخرجه دون الفقرة الاخيرة البخاري: 48
حدیث نمبر: 6446
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی ایک حدیث ِنبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6446]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 7/ 121، ابن ماجه: 3941، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1519»
الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 7/ 121
حدیث نمبر: 6447
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَنْ يَزَالَ الْمَرْءُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک دین کے معاملے میں یعنی نیکیاں کرنے میں وسعت میں رہتا ہے، جب تک حرام خون بہانے کا ارتکاب نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6447]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5681»
وضاحت: فوائد: … ویسے تو ہر قسم کے شرّ سے خیر والے معاملات متأثر ہو جاتے ہیں، لیکن قتل ایسا سنگین جرم ہے کہ اس سے نیکیوں کا سلسلہ تنگ ہو جاتا ہے، الا یہ کہ خلوص دل سے توبہ کر لی جائے، جیسا کہ سو افراد کے قاتل کا واقعہ مشہور ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6862
حدیث نمبر: 6448
عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْيَزَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ قَالَ قُسِّمَتِ النَّارُ سَبْعِينَ جُزْءًا فَلِلْآمِرِ تِسْعٌ وَسِتُّونَ وَلِلْقَاتِلِ جُزْءٌ وَحَسْبُهُ
۔ مرثد بن عبد اللہ یزنی ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخ کو ستر حصوں میں تقسیم کی گیا، قتل کا حکم دینے والے کے لئے انہتر حصے ہوں گے اور قاتل کے لئے ایک حصہ ہو گا اور وہی اس کے لیے کافی ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6448]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعنه۔ أخرجه البيھقي في ’’الشعب‘‘: 5360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23454»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6449
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَا جَرِيرُ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے جریر! لوگوں کو خاموش کراؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6449]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 121، 4405، 7080، ومسلم: 65، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19381»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کا قتل، ترکِ نماز کی طرح کفریہ عمل ہے، اس سے ایمان اور اسلام میں بہت بڑا نقص پیدا ہو جاتا ہے، لیکن ایسا کرنے والا اعتقادی کافر نہیں ہو گا، جس کی سزا ہمیشہ کے لیے آگ ہو گی۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 121