الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. أَبْوَابُ مَا يَجُوزُ قَتْلُهُ مِنَ الْحَيَوَانِ وَمَا لَا يَجُوزُ¤بَابُ الأمْرِ بِقَتْلِ الْفَوَاسِقِ مِنَ الْحَيَوَان
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 6488
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلْبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا، مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے اس کو چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی ہوئی ہے، اس وقت سے ہم نے ان کوئی صلح نہیں کی۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6488]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2037»
وضاحت: فوائد: … انسان اور سانپ، دونوں جبلی اور فطرتی طور پر ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اسی عداوت کو اس حدیث میںبیان کیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آدمg اور سانپ کے ما بین اس دشمنی کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب ابلیس کو جنت کے دربانوں نے آدمg کے پاس پہنچنے سے روکا تو سانپ نے اس کو جنت میں داخل کیا تھا، پھر اس نے آدم اور حواm کو ممنوعہ درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا اور اس طرح ان کو جنت سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔
سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرنا محض توہم پرستی ہے، دورِ جاہلیت میں کہا جاتا تھا کہ سانپ کو قتل نہ کرو، وگرنہ اس کا خاوند یا بیوی انتقام لینے کے لیے قتل کرنے والے کو ڈسے گی۔ پاکستان کے بعض علاقوں میں ابھی تک اس قسم کی وہمی باتیں پائی جاتی ہیں، مثلًا ایک مخصوص سانپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے سات سانپ آتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ سانپوں میں اس قسم کا کوئی سلسلہ نہیں پایا جاتا، لہذا ان کو قتل کرنے کی ہی کوشش کرنی چاہیے۔
سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرنا محض توہم پرستی ہے، دورِ جاہلیت میں کہا جاتا تھا کہ سانپ کو قتل نہ کرو، وگرنہ اس کا خاوند یا بیوی انتقام لینے کے لیے قتل کرنے والے کو ڈسے گی۔ پاکستان کے بعض علاقوں میں ابھی تک اس قسم کی وہمی باتیں پائی جاتی ہیں، مثلًا ایک مخصوص سانپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے سات سانپ آتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ سانپوں میں اس قسم کا کوئی سلسلہ نہیں پایا جاتا، لہذا ان کو قتل کرنے کی ہی کوشش کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2037
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6488 in Urdu