🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. أَبْوَابُ مَا يَجُوزُ قَتْلُهُ مِنَ الْحَيَوَانِ وَمَا لَا يَجُوزُ¤بَابُ الأمْرِ بِقَتْلِ الْفَوَاسِقِ مِنَ الْحَيَوَان
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6481
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحُدَيَّا، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ) ) وَفِي لَفْظٍ: ( (الْغُرَابُ الْأَبْقَعُ) )
۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ فاسق اور موذی جانور ہیں، ان کو حرم میں بھی مار دیا جائے،بچھو، چوہیا، چیل، کلب ِ عقور اورکوا۔ ایک روایت میں ہے: مختلف رنگ والا کوا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6481]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1829، ومسلم: 1198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24052 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24553»
وضاحت: فوائد: … ”الْعَقُوْرُ“ کا معنی بہت زیادہ کاٹنے والا بھی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1829
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6482
عَنْ وَبْرَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْفَأْرَةِ وَالْغُرَابِ وَالذِّئْبِ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: فَالْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ؟ قَالَ: قَدْ كَانَ يُقَالُ ذَلِكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوہیا، کوے اور بھیڑیے کو قتل کرنے کا حکم دیا، کسی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: بچھو اورسانپ کو بھی قتل کیا جائے گا؟ انھوں نے کہا: ان کے بارے میں بھی ایسی ہی بات کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6482]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه البيھقي: 5/ 210، والدارقطني: 2/232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4737»

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه البيھقي: 5/ 210
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6483
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ وَهُوَ حَرَامٌ، أَنْ يَقْتُلَهُنَّ: الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ) )
۔ (دوسری سند) سے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں کہ ان کو قتل کرنے میں محرم پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے، سانپ، بچھو، چوہیا، کلب ِ عقور اور چیل۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6483]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5107»
وضاحت: فوائد: … ”اَلْکَلْبُ الْعَقُوْرُ“: حقیقت میں اس لفظ کا اطلاق ہر زخمی کرنے والے اور چیر پھاڑ کرنے والے درندے پر بھی ہوتا ہے، جیسے شیر، چیتا، بھیڑیا۔ درندگی میں اشتراکیت کی وجہ سے ان کو بھی ”کَلْب“ کہتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی) ہڑکائے ہوئے اور باؤلے کتے کا بھییہی حکم ہو گا۔
امام مالک نے ”المؤطا“ میںکہا: ہر وہ جانور جو لوگوں کوکاٹے، ان پر حملہ کرے اوران کو ڈرائے، مثلا: شیر، چیتا، فہد، بھیڑیا، وہ عَقُور ہے۔ (فہد،چیتے کی طرح کا ایک درندہ ہوتا ہے)
ابو عبیدہ نے سفیان سے یہی قول نقل کیا ہے اور یہی جمہور اہل علم کی رائے ہے۔
ان جانوروں کے لیے لفظ ”فَاسِق“ استعمال ہوا، اس کا لفظی معنی ہے نکلنے والا، یہاں اس سے مراد وہ جانور ہیں کہ تکلیف پہنچانے اور افساد انگیزی کی وجہ سے جن کا حکم دوسرے جانوروں کے حکم سے خارج ہو گیا ہے۔
اس باب کی احادیث ِ صحیحہ میں درج ذیل کل سات جانوروں کا ذکر ہوا ہے:
بچھو، کوا، چیل، چوہا، کلب ِ عقور، سانپ، بھیڑیا
کیا ان کے علاوہ کسی جانور کو قتل نہیں کیا جا سکتا؟ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: روایات کے مطابق پانچ جانوروں کو مقید کرنا، اگرچہ اس کے مفہوم میں خصوصیت پائی جاتی ہے، لیکنیہ مفہوم العدد ہے، جو اکثر اہل علم کے نزدیک حجت نہیں ہے، اگر اس کی حجیّت تسلیم کر لیں تو اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ شروع شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ جانوروں کے بارے میں ہی حکم دیا، بعد میں ان میں اضافہ کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بعض طرق میں ”چار“ کا اور بعض میں ”چھ“ کا لفظ روایت کیا گیا ہے، ”چار“ کی روایت صحیح مسلم میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر نہیں ہے اور ”چھ“ کی روایت مستخرج ابو عوانہ میں ہے، اس میں بچھو کا ذکر موجود ہے اور سانپ کا اضافہ کیا گیا ہے، صحیح مسلم کی شیبان کی روایت اس روایت کا شاہد ہے، اگرچہ اس میں کسی عدد کا ذکر نہیں ہے، …۔ (فتح الباری: ۴/ ۴۴)
جن روایات میں خون خوار درندے اور چیتے وغیرہ کے الفاظ ہیں، ان پر نقد کیا گیا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا جن جانوروں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے یہ جانور انسان کے لیے ضرر، نقصان، تکلیف، خوف اور فساد کا سبب بن سکتے ہیں، بلکہ اِن کی وجہ سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، اس لیے جس جانور میںیہ وصف پایا جائے، محرِم و غیر محرِم کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اس کو حرم میں قتل کر دے، جبکہ کلب ِ عقور کا مفہوم بھییہی بنتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1199
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6484
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ يَحْيَى: وَالْأَسْوَدَانِ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو کالی رنگت والوں کو مارنے کا حکم دیا ہے یحییٰ بن حمزہ کہتے ہیں کاگی رنگت والوں سے مراد سانپ اور بچھو ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6484]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابوداود: 921، والترمذي: 390، والنسائي: 3/10، وابن ماجه: 1245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7463»
وضاحت: فوائد: … سیاہ سانپ کو ”اَسْوَد“ کہتے ہیں اور ہر قسم کے سانپ کو ”اَسْوَد“ کہتے ہیں،یہاں مطلق سانپ مراد ہے، سانپ اور بچھو دونوں کو ”اَسْوَدَیْن“ کہہ دینا ”باب التغلیب“ میں سے ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه ابوداود: 921
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6485
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ لَيْلَةَ عَرَفَةَ الَّتِي قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ إِذْ سَمِعْنَا حِسَّ الْحَيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اقْتُلُوهَا) ) ، قَالَ: فَقُمْنَا فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ، فَأُتِيَ بِسَعَفَةٍ فَأُضْرِمَ فِيهَا نَارًا وَأَخَذْنَا عُودًا فَقَلَعْنَا عَنْهَا بَعْضَ الْجُحْرِ فَلَمْ نَجِدْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (دَعُوهَا وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ عرفہ کے دن سے پہلے والی رات کو مسجد ِ خیف میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ہم نے سانپ کی حرکت محسوس کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ ہم اسے مارنے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ ایک پتھر کی دراڑ میں گھس گیا، پس کھجوروں کی شاخیں لائی گئیں اور اس میں آ گ جلائی گئی، پھر ہم نے ایک لکڑی لی اور پتھر کو اس کی جگہ سے کچھ ہٹایا، لیکن وہ سانپ نہ مل سکا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اسے چھوڑدو، اللہ نے اس کو تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6485]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1830،، 4931، 4934، ومسلم: 2234، 2235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3649»
وضاحت: فوائد: … سانپ کو مارنا شرعی حکم ہے، لیکن سانپ کے لیےیہ کسی شرّ سے کم نہیں ہے کہ اس کو مار دیا جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے سانپ کو تمہارے شرّ سے محفوظ کر لیا ہے۔ ممکن ہے کہ آگ جلانے کا مقصد یہ ہو کہ سانپ باہر نکل آئے گا، بہرحال آگ سے عذاب دینا ممنوع ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1830
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6486
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى قَالَ: فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اقْتُلُوهَا) ) فَابْتَدَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم منٰی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک ایک سانپ نکل آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ پس ہم اسے مارنے کے لئے دوڑے، لیکن وہ نکل گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6486]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3586»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3586
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6487
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ (وَفِي لَفْظٍ: بِحِرَاءَ) فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ: «وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا» فَجَعَلْنَا نَتَلَقَّاهَا مِنْهُ فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ مِنْ جَانِبِ الْغَارِ فَقَالَ: ( (اقْتُلُوهَا) ) فَتَبَادَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا فَقَالَ: ( (إِنَّهَا وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار حراء میں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورت {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} نازل ہوئی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ سورت سیکھ رہے تھے کہ اچانک ایک سانپ غار کی جانب سے نمو دار ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ ہم سے نکل گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے شر سے محفوظ رہا اور تم اس کے شر سے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6487]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4063»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4063
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6488
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلْبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا، مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے اس کو چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی ہوئی ہے، اس وقت سے ہم نے ان کوئی صلح نہیں کی۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6488]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2037»
وضاحت: فوائد: … انسان اور سانپ، دونوں جبلی اور فطرتی طور پر ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اسی عداوت کو اس حدیث میںبیان کیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آدمg اور سانپ کے ما بین اس دشمنی کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب ابلیس کو جنت کے دربانوں نے آدمg کے پاس پہنچنے سے روکا تو سانپ نے اس کو جنت میں داخل کیا تھا، پھر اس نے آدم اور حواm کو ممنوعہ درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا اور اس طرح ان کو جنت سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔
سانپ کی انتقامی کاروائی سے ڈرنا محض توہم پرستی ہے، دورِ جاہلیت میں کہا جاتا تھا کہ سانپ کو قتل نہ کرو، وگرنہ اس کا خاوند یا بیوی انتقام لینے کے لیے قتل کرنے والے کو ڈسے گی۔ پاکستان کے بعض علاقوں میں ابھی تک اس قسم کی وہمی باتیں پائی جاتی ہیں، مثلًا ایک مخصوص سانپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے سات سانپ آتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ سانپوں میں اس قسم کا کوئی سلسلہ نہیں پایا جاتا، لہذا ان کو قتل کرنے کی ہی کوشش کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2037
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6489
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6489]
تخریج الحدیث: «أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17074»

الحكم على الحديث:
أخرجه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6490
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَلَهُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغًا فَلَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ تَرَكَ حَيَّةً مَخَافَةَ عَاقِبَتِهَا فَلَيْسَ مِنَّا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سانپ کو قتل کرے، اسے سات نیکیاں ملتی ہیں اور جو چھپکلی کو مارے، اسے ایک نیکی ملتی ہے اور جس نے سانپ کو اس کے انتقام کے خوف کی وجہ سے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6490]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، المسيب بن رافع لم يلق ابن مسعود۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 10492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3984»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِی أَوَّلِ ضَرْبَۃٍ کُتِبَتْ لَہُ مِائَۃُ حَسَنَۃٍ وَفِی الثَّانِیَۃِ دُونَ ذَلِکَ وَفِی الثَّالِثَۃِ دُونَ ذَلِکَ۔)) … ”جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں قتل کر دیا، اس کے لیے سو نیکیاں ہیں اور جس نے دوسری ضرب میں قتل کیا، اس کے لیے اس سے کم نیکیاں ہیں اور جس نے تیسری ضرب میں قتل کیا، اس کے لیے اس سے کم نیکیاں ہیں۔“ (صحیح مسلم: ۲۲۴۰)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں