الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب النهي عَنْ قَبل حَيَّاتِ البيوتِ إِلَّا بَعْدَ تَحْذِيرِهَا إلا الْأَبْتَر وَذَا الطميتينِ فَإِنَّهُمَا يُقتلان
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
حدیث نمبر: 6494
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَخْتَطِفَانِ وَفِي لَفْظٍ يَطْمِسَانِ الْأَبْصَارَ وَيَطْرَحَانِ الْحَمْلَ مِنْ بُطُونِ النِّسَاءِ وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا
۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے، ماسوائے ان دو سانپوں کے، چھوٹی دم والا موذی سانپ اور جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، کیونکہ یہ نظر کا نور اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل گرا کر دیتے ہیں، جوان دونوں کو چھوڑے گا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6494]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3308، ومسلم: 2232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24511»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ ان سانپوںکی نظر میں زہریلا مواد ہو اور اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ ان کے ڈسنے سے نظر ختم ہو جاتی ہو اور حاملہ عورتوںکے حمل گر جاتے ہیں، ایک معنییہ بھی کیا گیا ہے کہ جب حاملہ عورت ان کی طرف دیکھتی ہے اور ڈرتی ہے تو اس کا حمل گر جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3308
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6494 in Urdu