الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب النهي عَنْ قَبل حَيَّاتِ البيوتِ إِلَّا بَعْدَ تَحْذِيرِهَا إلا الْأَبْتَر وَذَا الطميتينِ فَإِنَّهُمَا يُقتلان
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
حدیث نمبر: 6499
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَتَحَ خَوْخَةً لَهُ وَعِنْدَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجَتْ عَلَيْهِمْ حَيَّةٌ فَأَمَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِقَتْلِهَا فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُؤْذِنَهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُنَّ
۔ سیدنا زید بن اسلم کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک کھڑکی کھولی، ان کے پاس سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اچانک ایک سانپ نکلا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے مارنے کا حکم دیا، لیکن سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ ان کو قتل کرنے سے پہلے اطلاع دی جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6499]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن في الشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11106»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن في الشواھد
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6499 in Urdu