🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. أبواب ما جاء فى قتل الكلاب واقتنائها¤ باب الأمر بقتلها و سبب ذلك
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6508
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ فِي سَاعَةٍ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا فَرَثَ عَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهُ فِيهَا فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ بِالْبَابِ قَائِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنِّي انْتَظَرْتُكَ لِمِيعَادِكَ) ) فَقَالَ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا وَلَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ، وَكَانَ تَحْتَ سَرِيرِ عَائِشَةَ جِرْوُ كَلْبٍ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَمَرَ بِالْكِلَابِ حِينَ أَصْبَحَ فَقُتِلَتْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک مقررہ وقت میں آنے کا وعدہ کیا، پھر انہوں نے تاخیر کر دی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلے تو جبریل علیہ السلام باہر دروازے پر کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں توآپ کے وعدے کے مطابق آپ کا انتظار کرتا رہا، سیدنا جبریل علیہ السلام نے کہا: گھر میں ایک کتا ہے اور جس گھر میں کتا اورتصویر ہوں،ہم اس میں داخل نہیں ہوتے۔ دراصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چار پائی کے نیچے کتے کا ایک پلا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو باہر نکالنے کا حکم دیا، پس اس کو نکال دیا گیا، اور پھر جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا اور ان کو قتل کیا جانے لگا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6508]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2104 دون امر قتل الكلاب، وامرهV بقتل الكلاب ورد من حديث ميمونة عند مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25613»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہاں تصویر اور کتا ہو اس گھر میں فرشتہ نہیں آتا، آج مسلمانوں کے گھروں میں ان دونوں چیزوں کی بھرمار ہے۔ حفاظت، شکار وغیرہ کی ضرورت کے تحت کتا رکھنا اس سے مستثنیٰ ہیں۔ شاید اسی وجہ سے آج گھروں سے برکت ورحمت ختم ہوتی جارہی ہے۔ رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، وگرنہ کاتب، محافظ اور موت کے فرشتے تو ہر گھر میں جاتے ہیں۔ تصویر سے مراد ذی روح چیز کی تصویر ہے، خواہ وہ آدمی کی ہو یا حیوان کی، اس سے وہ تصویریں مستثنی ہیں، جو ناگزیر مقاصد کے لیے ہوں اور جن کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو، مثلا پاسپورٹ، شناختی کارڈ، لائسنس وغیرہ کے لیے، لیکن بہتر یہ ہے کہ ان کو بھی محفوظ یا بند جگہ میں رکھا جائے اور آویزاں نہ کیا جائے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2104 دون امر قتل الكلاب


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6508 in Urdu