یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب لا يقتل والد بولده، وما جاء فى قتل الإثنين بالواحد
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6558
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقَادُ لِوَلَدٍ مِنْ وَالِدِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولاد کا والدین سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6558]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 148»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے ثابت ہوا کہ والدین کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین ہی اس بچے کے وجود کا سبب تھے، اس لیے اگر وہ اس کی زندگی ختم کر دیں تو اس کے عوض ان کی زندگی کو ختم نہ کیا جائے، دوسری وجہ والدین کا احترام بھی ہو سکتا ہے۔
لیکن ایسی صورت میں باپ سے دیت لی جائے گی اور اس کو بیٹے کی میراث سے محروم کر دیا جائے گا، کیونکہ قاتل اپنے قتل کی وجہ سے مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔
لیکن ایسی صورت میں باپ سے دیت لی جائے گی اور اس کو بیٹے کی میراث سے محروم کر دیا جائے گا، کیونکہ قاتل اپنے قتل کی وجہ سے مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6558 in Urdu