الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب القصاص من ولاة الأمور إلا إذا اصطلح المستحق أو عفا
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
حدیث نمبر: 6561
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَلَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ قَالَ قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مال تقسیم کر رہے تھے، ایک آدمی آگے بڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجور کی ایک ٹہنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو وہ مار دی، جس سے اس کا چہر ہ زخمی ہو گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگے آ اور مجھ سے قصاص لے لے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6561]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4536، والنسائي: 8/32، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11247»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کوئی فرد قصاص کے قانون سے مستثنی نہیں ہے، اگر سید الانبیاء کی یہ صورتحال ہے تو اوروں کا اندازہ از خود ہو جانا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6561 in Urdu