الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ هَلْ يُسْتَوْقَى الْقِصَاصُ وَالْحُدُودُ فِي الْحَرَم وَالْمَسَاجِدِ أَمْ لَا؟
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
حدیث نمبر: 6576
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطْلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتارا تو ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: اس کو قتل کردو۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6576]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1846، 3044، ومسلم: 1357، وابوداود!: 2685، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12962»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن خطل کو کعبہ میں اس وقت قتل کروایا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کے لیے کچھ وقت کے لیے لڑائی جائز قرار دی گئی تھی، فتح مکہ کے موقع پر جب لڑائی کا معینہ وقت گزر گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرمت کا اعلان کر دیا، جو روزِ قیامت تک برقرار رہے گی۔
وعظ و نصیحت، کافروں کی مذمت اور دیگر کسی اچھے مقصد کے لیے اشعار مسجد میں پڑھنے جائز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا مشرکوں کو میری طرف سے جواب دے پھر آپ نے اس کے لیے دعا کی ”اللہم ایدہ بروح القدس“ اے اللہ! جبریل کے ساتھ اس کی مدد فرما۔ (بخاری: ۶۱۵۰/۶۰۵۱) (عبداللہ رفیق)
وعظ و نصیحت، کافروں کی مذمت اور دیگر کسی اچھے مقصد کے لیے اشعار مسجد میں پڑھنے جائز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا مشرکوں کو میری طرف سے جواب دے پھر آپ نے اس کے لیے دعا کی ”اللہم ایدہ بروح القدس“ اے اللہ! جبریل کے ساتھ اس کی مدد فرما۔ (بخاری: ۶۱۵۰/۶۰۵۱) (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1846
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6576 in Urdu