الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ هَلْ يُسْتَوْقَى الْقِصَاصُ وَالْحُدُودُ فِي الْحَرَم وَالْمَسَاجِدِ أَمْ لَا؟
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
حدیث نمبر: 6574
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُسْتَقَادُ فِيهَا
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجدوں میں نہ حدیں لگائی جائیں اور نہ قصاص لیا جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6574]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة العباس بن عبد الرحمن المدني۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 42، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 3131، والدارقطني في ’’السنن‘‘: 3/ 86، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15664»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت درج ذیل الفاظ کے ساتھ صحیح ہے:
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُسْتَقَادَ فِی الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِیہِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِیہِ الْحُدُودُ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے، اس میں اشعار پڑھے جائیں اور اس میں حدیں لگائی جائیں۔ (ابوداود: ۴۴۹۰)
معلوم ہوا کہ مسجد میں نہ کوئی حد لگائی جائے اور نہ قصاص لیا جائے، کیونکہ مسجد کی تعمیر کا مقصد اللہ تعالی کا ذکر، تلاوت اور نماز ہے۔
ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ یہ مرتد ہوگیا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم مسلمان کو قتل کیا تھا اور اس کی دو لونڈیاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مذمت کیا کرتی تھیں۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُسْتَقَادَ فِی الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِیہِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُقَامَ فِیہِ الْحُدُودُ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ مسجد میں قصاص لیا جائے، اس میں اشعار پڑھے جائیں اور اس میں حدیں لگائی جائیں۔ (ابوداود: ۴۴۹۰)
معلوم ہوا کہ مسجد میں نہ کوئی حد لگائی جائے اور نہ قصاص لیا جائے، کیونکہ مسجد کی تعمیر کا مقصد اللہ تعالی کا ذکر، تلاوت اور نماز ہے۔
ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ یہ مرتد ہوگیا تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم مسلمان کو قتل کیا تھا اور اس کی دو لونڈیاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مذمت کیا کرتی تھیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6575
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ فِي الْحَرَمِ أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاهِلِيَّةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ زیادتی کرنے والا وہ شخص ہے جو حرم میں قتل کرے، یا غیر قاتل کو قتل کر دے، یا جاہلیت کا انتقام لے۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6575]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6933»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی تمام زیادتیوں کی معافی کا اعلان کر دیا تھا اور عملاً معاف کیا بھی تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6576
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطْلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اتارا تو ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: اس کو قتل کردو۔ [الفتح الربانی/أبواب القصاص/حدیث: 6576]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1846، 3044، ومسلم: 1357، وابوداود!: 2685، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12962»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن خطل کو کعبہ میں اس وقت قتل کروایا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کے لیے کچھ وقت کے لیے لڑائی جائز قرار دی گئی تھی، فتح مکہ کے موقع پر جب لڑائی کا معینہ وقت گزر گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرمت کا اعلان کر دیا، جو روزِ قیامت تک برقرار رہے گی۔
وعظ و نصیحت، کافروں کی مذمت اور دیگر کسی اچھے مقصد کے لیے اشعار مسجد میں پڑھنے جائز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا مشرکوں کو میری طرف سے جواب دے پھر آپ نے اس کے لیے دعا کی ”اللہم ایدہ بروح القدس“ اے اللہ! جبریل کے ساتھ اس کی مدد فرما۔ (بخاری: ۶۱۵۰/۶۰۵۱) (عبداللہ رفیق)
وعظ و نصیحت، کافروں کی مذمت اور دیگر کسی اچھے مقصد کے لیے اشعار مسجد میں پڑھنے جائز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا مشرکوں کو میری طرف سے جواب دے پھر آپ نے اس کے لیے دعا کی ”اللہم ایدہ بروح القدس“ اے اللہ! جبریل کے ساتھ اس کی مدد فرما۔ (بخاری: ۶۱۵۰/۶۰۵۱) (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح