🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَاب مَا جَاءَ فِي قِصَّةِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكِ الْأَسْلَمِيِّ وَرَجْمِهِ
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6695
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا قَالَ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ قَالَ فَجَاءَ فَاعْتَرَفَ مِرَارًا فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ فَرُجِمَ ثُمَّ أُتِيَ فَأُخْبِرَ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى تَخَلَّفَ عِنْدَهُنَّ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُمْ لَأَجْعَلَنَّهُمْ نَكَالًا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ ماعز بن مالک،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا، لیکن وہ اُس طرف سے آگیا اور پھر زنا کا اعتراف کیا اور پھر بار بار اعتراف کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اس کو سنگسار کیا جا چکا ہے، پس آپ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اورپھر فرمایا: ان لوگوں کاکیا بنے گا کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاتے ہیں تو کوئی آدمی پیچھے رہ جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی شدت کو پورا کر نے کے لئے بکرے کی سی آواز نکالتا ہے اور تھوڑا سا دورہ دے کر ایک عورت کو پھنسا لیتا ہے،اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی نے مجھے کسی ایسے شخص پر قدرت دی تو میں اس کو لوگوں کے لیے عبرت بناؤں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6695]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21289»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعراض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اس اعتراف سے باز آ جائے اور اس طرح سزا سے بچ جائے۔ معلوم ہوا کہ جو آدمی مجاہدین کے گھر والوں کا لحاظ بھی نہیں کرتا، وہ سخت سزا کا مستحق ہے، غور کیا جائے کہ کسی کو پتھر مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دینابڑی سخت سزا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مجرم کو اس سے بھی سخت سزا دینے کا ارادہ کرتے ہیں۔
اضافی سزا دینے کی بات تو نہیں کی گئی۔ کسی شادی شدہ انسان کو سو کوڑے لگا کر پھر اسے رجم کیا جائے تو یہی بڑی سخت سزا ہے اور لوگوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق۔ أخرجه


Al-Fath al-Rabbani Hadith 6695 in Urdu