الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَاب مَا جَاءَ فِي قِصَّةِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكِ الْأَسْلَمِيِّ وَرَجْمِهِ
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
حدیث نمبر: 6696
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَصِيرٍ أَشْعَثَ ذِي عَضَلَاتٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنَى فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ وَنَسِيَ آخِرَهُ قَالَ فَحَدَّثَنِيهِ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک کوتاہ قد آدمی لایا گیا، اس کی حالت پراگندہ تھی، وہ مضبوط پٹھوں اور گٹے بدن والا تھا، اس نے تہبند پہنا ہوا تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ اس کو ردّ کر دیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کو رجم کیا گیا، … سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی …، سعید بن جبیر نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ نقل کیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوچار مرتبہ ردّ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6696]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20983 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21294»
وضاحت: فوائد: … مقصد چار مرتبہ ان سے اعتراف کرواتا تھا جو چار گواہیوں کے قائمقام ہو جاتا اس لئے لوٹا دیا جب یہ اصول پورا ہوا تو پھر رجم کا حکم دیا۔ یہ آدمی سیدنا ماعز ہی تھے۔ رضی اللہ عنہ۔ فوائد کے تحت یہ بات پہلے واضح کر دی گئی ہے کہ چار دفعہ اعتراف و اقرار کرانا ضروری نہیں ہے یہ صرف احتیاط کے پیش نظر ہے۔ ورنہ ایک دفعہ اعتراف پر بھی حد لگائی جائے گی۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1692
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6696 in Urdu