الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ اعْتِبَارِ الْحَرَرُ وَمَا جَاءَ فِي الْمُخْتَلِسِ وَالْمُتَهَبِ وَالْخَائِنِ وَجَاحِدِ الْعَارِيَةِ وَمَا لَا قَطعَ فِيهِ
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
حدیث نمبر: 6761
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَتْ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مخزوم قبیلے کی ایک عورت سامان ادھار لیتی تھی اور پھر انکار کر دیتی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6761]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/71، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6383»
وضاحت: فوائد: … بظاہر اس حدیث ِ مبارکہ سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ عاریۃً لی ہوئی چیز کا انکار کر دینے کی وجہ سے اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا، لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ ایسے انکار کی وجہ سے تو ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا، جبکہ بعض احادیث ِ صحیحہ میں اس امر کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ اس عورت نے چوری کی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹا تھا، اس حدیث کو اختصار پر محمول کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6761 in Urdu