الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ اعْتِبَارِ الْحَرَرُ وَمَا جَاءَ فِي الْمُخْتَلِسِ وَالْمُتَهَبِ وَالْخَائِنِ وَجَاحِدِ الْعَارِيَةِ وَمَا لَا قَطعَ فِيهِ
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
حدیث نمبر: 6762
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَرَقَ غُلَامٌ لِنُعْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ نَخْلًا صِغَارًا فَرُفِعَ إِلَى مَرْوَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَقْطَعَهُ فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُقْطَعُ فِي الثَّمَرِ وَلَا فِي الْكَثَرِ قَالَ قُلْتُ لِيَحْيَى مَا الْكَثَرُ قَالَ الْجُمَّارُ
۔ محمد بن یحییٰ بن حبان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کے ایک غلام نے چھوٹی چھوٹی کھجوریں چوری کر لیں،جب اس کا معاملہ مروان کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھل اور کھجور کے درخت کے گوند کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ میں نے یحییٰ سے کہا: کَثَر سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: جُمَّار (کھجور کے درخت کا گوند)۔ [الفتح الربانی/أبواب حد السرقة/حدیث: 6762]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 7452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15814 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15907»
وضاحت: فوائد: … اس کی وجہ یہ ہے کہ باغ حفاظت کی جگہ نہیں ہے، اس باب کی پہلی حدیث میں باغ کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6762 in Urdu