الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب النهي عن اثيان الكاهن أو العراف ووعيد من أناه وصدقه
کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 6816
عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا) ) .
۔ سیدنا صفیہ رضی اللہ عنہا کسی ایک زوجۂ رسول سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عَرّاف کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6816]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16755»
وضاحت: فوائد: … جو آدمی کاہن کے دعوی کی تصدیق کرے گا اور اس کے بارے میںیہ اعتقاد رکھے گا کہ وہ غیب کا علم رکھتا ہے تو وہ واقعی کافر ہو جائے گا، جیسا کہ گزشتہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے، لیکن جو آدمی کاہن کے پاس گیا اور اس کے اس دعوی کی تصدیق کی، جس کی معرفت انسان کے بس کی بات ہوتی ہے، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
امام نووی نے کہا: نماز قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کو نماز کا ثواب نہیں ملے گا، البتہ اس کا فرض ادا ہو جائے گا اور اس کو اعادہ یعنی نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
کاہن کے دعویٰ کی تصدیق کرنا یقینا کفریہ کام ہے۔ لیکن اگر ایسا آدمی دین کی دوسری چیزوں (توحید و رسالت، جزا و سزا وغیرہ) کو تسلیم کرتا ہے تو اس کا یہ کفریہ کام مخلد فی النار (ہمیشہ جہنمی) ہونے کا سبب نہیں بنے گا۔ بلکہ یہ کفر دون کفر کی صورت ہوگی جیسے مومن کے ساتھ لڑائی کرنے کو کفر کہا گیا ہے (قتالہ کفر) یہ بھی آدمی کو ہمیشہ جہنمی بنانے کا سبب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
امام نووی نے کہا: نماز قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کو نماز کا ثواب نہیں ملے گا، البتہ اس کا فرض ادا ہو جائے گا اور اس کو اعادہ یعنی نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
کاہن کے دعویٰ کی تصدیق کرنا یقینا کفریہ کام ہے۔ لیکن اگر ایسا آدمی دین کی دوسری چیزوں (توحید و رسالت، جزا و سزا وغیرہ) کو تسلیم کرتا ہے تو اس کا یہ کفریہ کام مخلد فی النار (ہمیشہ جہنمی) ہونے کا سبب نہیں بنے گا۔ بلکہ یہ کفر دون کفر کی صورت ہوگی جیسے مومن کے ساتھ لڑائی کرنے کو کفر کہا گیا ہے (قتالہ کفر) یہ بھی آدمی کو ہمیشہ جہنمی بنانے کا سبب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6816 in Urdu