الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ما جاء فى العيافة والطريق يعني الخط فى الأرض والطيرة
فال پکڑنے، زمیں میں خط لگانے اور بدشگونی کا بیان
حدیث نمبر: 6822
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَهُ فَهُوَ عِلْمُهُ) ) .
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک نبی لکیریں لگاتا تھا، پس جس شخص کا علم اس کے موافق ہو جائے، وہ علم درست ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6822]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9106»
وضاحت: فوائد: … گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زجر و توبیخ کر رہے ہیں، کیونکہ اس نبی سے موافقت ہو جانے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔
دورِ جاہلیت میں خط لگانے کی صورت یہ تھی کہ محتاج مٹھائی وغیرہ لے کر کاہن اور پیشین گوئی کرنے والے کے پاس آتا، وہ اس کو کہتا: تو بیٹھ جا، میں تیرے لیے لکیریں لگاتا ہوں، اُدھر کاہن کے سامنے ایک لڑکا ہوتا، اس کے پاس سرمہ کی سلائی ہوتی، پھر وہ نرم زمین کی طرف آتا اور اتنی جلدی سے لکیریں لگاتا کہ ان کو گن نہیں سکتا تھا، پھر دو دو لکیریں مٹانا شروع کر دیتا، اب اگر آخر میں دو لکیریں بچ جاتیں تو ان کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا اور اگر ایک بچ جاتی تو وہ ناکامی کی علامت ہوتی تھی۔
دورِ جاہلیت میں خط لگانے کی صورت یہ تھی کہ محتاج مٹھائی وغیرہ لے کر کاہن اور پیشین گوئی کرنے والے کے پاس آتا، وہ اس کو کہتا: تو بیٹھ جا، میں تیرے لیے لکیریں لگاتا ہوں، اُدھر کاہن کے سامنے ایک لڑکا ہوتا، اس کے پاس سرمہ کی سلائی ہوتی، پھر وہ نرم زمین کی طرف آتا اور اتنی جلدی سے لکیریں لگاتا کہ ان کو گن نہیں سکتا تھا، پھر دو دو لکیریں مٹانا شروع کر دیتا، اب اگر آخر میں دو لکیریں بچ جاتیں تو ان کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا اور اگر ایک بچ جاتی تو وہ ناکامی کی علامت ہوتی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6822 in Urdu