الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ النَّهْي عَنِ الْاخْتِصَاءِ وَالتَّبَتْلِ
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6841
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ قَالَتْ فَلَا تَفْعَلْ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً} [الرعد 38] فَلَا تَبَتَّلْ قَالَ فَخَرَجَ وَقَدْ فَقِهَ وَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ مَكْرَانَ فَقُتِلَ هُنَاكَ عَلَى أَفْضَلِ عَمَلِهِ
۔ سعد بن ہشام سے مروی ہے کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں آپ سے تبتّل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا:ایسا نہ کرو، کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں اور ان کے لئے بیویاں اور اولاد بنائی۔ اس لئے تبتّل سے بچ، پھر وہ باہر تشریف لے گئے، جبکہ وہ فہم و فقہ حاصل کر چکے تھے، پھر وہ بصرہ چلے گئے، وہاں کچھ عرصہ ہی رہے تھے کہ مکران کی سرزمین کی طرف چلے گئے، پھر وہاں افضل ترین عمل سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6841]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مختصرا النسائي: 3/ 242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25165»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6841 in Urdu