🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ اسْتِثْمَارِ النِّسَاءِ فِي بَنَاتِهِنَّ
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6896
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ وَاسْمُهُ الَّذِي يُعْرَفُ بِهِ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ صَالِحًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اخْطُبْ عَلَى ابْنَةِ صَالِحٍ فَقَالَ إِنَّ لَهُ يَتَامَى وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ قَالَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِيَخْطُبَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ فَقَالَ لِي يَتَامَى وَلَمْ أَكُنْ لِأَتْرِبَ لَحْمِي وَأَرْفَعَ لَحْمَكُمْ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِي فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حَجْرِهِ وَلَمْ يُؤَامِرْهَا فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ أَنَكَحْتَ ابْنَتَكَ وَلَمْ تُؤَامِرْهَا فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ وَهِيَ بِكْرٌ فَقَالَ صَالِحٌ فَإِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا يُصْدِقُهَا ابْنُ عُمَرَ فَإِنَّ لَهُ فِي مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، صالح کی بیٹی کو منگنی کا پیغام بھیجیں۔ صالح، نُعیم بن نحام کے نام سے معروف تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام صالح رکھا تھا، انہوں نے کہا: صالح کے ہاں یتیم بچے زیر پرورش ہیں، وہ انہیں چھوڑنا گوارا نہیں کرے گا، نکاح کے لئے انہیں ترجیح دے گا۔ یہ بات سن کر سیدنا عبد اللہ اپنے چچا زید بن خطاب کے پاس گئے تاکہ وہ منگنی کا پیغام دیں۔ چنانچہ زید، صالح کے پاس گئے اور کہا: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتاہے، اس نے کہا: میرے زیر پرورش یتیم بچے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ اپنی توہین کر دوں اور تمہیں عزت دوں، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے فلاں سے فلاں کا نکاح کر دیا ہے، مگر اس عورت کی ماں کا میلان سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی جانب تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے نبی! عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے میری بیٹی کیلئے پیغام نکاح بھیجا تھا، لیکن صالح نے زیر پرورش ایک یتیم سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صالح کو پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تو نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے اور بیوی سے مشوہ ہی نہیں کیا۔ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے مشورہ کیا کرو۔ جبکہ بچی کنواری ہو۔ صالح نے کہا: میں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہمانے اس کے مہر کی جو مقدار رکھی، اتنی مقدار تو میرے مال سے یتیم کا حصہ بنتی تھی، اس لیے میں نے پھر اسی کو ترجیح دی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6896]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 4/ 369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5720»

الحكم على الحديث:
حديث حسن

 1 .....
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6896 in Urdu