الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ اسْتِثْمَارِ النِّسَاءِ فِي بَنَاتِهِنَّ
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6897
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ خَطَبَ إِلَى نَسِيبٍ لَهُ ابْنَتَهُ قَالَ فَكَانَ هَوَى أُمِّ الْمَرْأَةِ فِي ابْنِ عُمَرَ وَكَانَ هَوَى أَبِيهَا فِي يَتِيمٍ لَهُ قَالَ فَزَوَّجَهَا الْأَبُ يَتِيمَهُ ذَلِكَ فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے نسب میں اپنے قریبی کو اس کی بیٹی کے لئے منگنی کا پیغام بھیجا، اس لڑکی کی والدہ کا میلان ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف ہی تھا، لیکن باپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنے زیر تربیت یتیم سے اس کا نکاح کر دے، تو اس نے اس یتیم سے اس کی شادی کر دی، اس کی ماں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس چیز کا آپ سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیویوں سے بیٹیوں کی شادی کے سلسلے میں مشورہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6897]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرج المرفوع منه فقط ابوداود: 2095، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4905»
وضاحت: فوائد: … ماؤں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنا اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ نکاح کے عقد میں ولی کی طرح کا کوئی اختیار رکھتی ہیں، بلکہ یہ حسن معاشرت کا تقاضا ہے، اس سے مائیں خوش ہو جائیں گی اور اس مشورے کی برکت سے بیٹیوں اور ان کے خاوندوں میں الفت، محبت اور اتفاق پیدا ہو گا، وگرنہ زیادہ تر بیٹیوں کا میلان ماؤں کی طرف ہوتا ہے، اس لیے اگر اس معاملے میں ماؤں کو راضی نہ کیا گیاتو فساد کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
1 .....
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6897 in Urdu