الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب ما جاء فيمن تزوج امرأة أبيه
کسی شخص کا اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلینے کا بیان
حدیث نمبر: 6958
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَجْمَلِ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ؟ قَالَ: ( (وَمَنْ هِيَ؟) ) قُلْتُ: ابْنَةُ حَمْزَةَ، قَالَ: ( (أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعِ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو ایسی لڑکی کا نہ بتاؤں، جو قریش میں سے سب سے زیادہ خوبصورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: سیدنا حمزہ کی بیٹی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے نہیں ہو کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے رضاعت کی وجہ سے وہی رشتے حرام کیے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6958]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1096»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے:
{وَلَاتَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آَبَائُکُمْ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَاقَدْ سَلَفَ اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَمَقْتًا وَسَآئَ سَبِیْلًا} … ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو، جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے، مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راہ ہے۔“ (سورۂ نسائ:۲۲)
دورِ جاہلیت میں سوتیلی ماں کو بھی میت کا ورثہ سمجھ لیا جاتا تھا، اس کا نکاح کرنے یا نہ کرنے کا انحصار ورثاء کی مرضی پر تھا، بلکہ مرنے والے کا بیٹا اپنے باپ کی اس بیوی سے نکاح بھی سکتا تھا، شریعت ِاسلامیہ نے اس تحریم و تقدس کو بحال کرتے ہوئے سوتیلی ماں کو بھی محرم قرار دیا اور اس سے نکاح کرنے والے کی سزا یہ رکھی کہ اس کو قتل کر دیا جائے اور اس کا مال غصب کر لیا جائے۔
{وَلَاتَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آَبَائُکُمْ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَاقَدْ سَلَفَ اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَمَقْتًا وَسَآئَ سَبِیْلًا} … ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو، جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے، مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راہ ہے۔“ (سورۂ نسائ:۲۲)
دورِ جاہلیت میں سوتیلی ماں کو بھی میت کا ورثہ سمجھ لیا جاتا تھا، اس کا نکاح کرنے یا نہ کرنے کا انحصار ورثاء کی مرضی پر تھا، بلکہ مرنے والے کا بیٹا اپنے باپ کی اس بیوی سے نکاح بھی سکتا تھا، شریعت ِاسلامیہ نے اس تحریم و تقدس کو بحال کرتے ہوئے سوتیلی ماں کو بھی محرم قرار دیا اور اس سے نکاح کرنے والے کی سزا یہ رکھی کہ اس کو قتل کر دیا جائے اور اس کا مال غصب کر لیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6958 in Urdu