الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ عَدَدِ الرَّضْعَاتِ الْمُحَرِّمَةِ وَمَا جَاءَ فِي رَضَاعَةِ الكبير
حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
حدیث نمبر: 6971
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لِعَائِشَةَ: إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ) )
۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: عائشہ! آپ کے پاس بلوغت کے قریب ایک لڑکا آتا ہے، میں پسند نہیں کرتی کہ وہ میرے پاس آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ ابو حذیفہ کی بیوی نے کہا: اے اللہ کے رسول! سالم میرے پاس آتا ہے اور اب وہ مرد بن چکا ہے اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے تاکہ وہ تیرے پاس آ سکے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6971]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25929»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1453
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6971 in Urdu