الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب عدد الرضعات المحرمة وما جاء فى رضاعة الكبير
حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
حدیث نمبر: 6970
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی تھیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ باقی تمام ازواجِ مطہرات نے اس سے انکار کر دیا تھا کہ سالم جیسی رضاعت کی وجہ سے کوئی آدمی ان کے پاس آئے، اور انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہماری تو صرف یہ رائے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہوئی یہ رخصت سالم کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا ایسی رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہم پر داخل ہو اور نہ ہمیں دیکھے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6970]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1454، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27196»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6970 in Urdu