الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب من تجوز شهادته فى الرضاعة
اس چیز کا بیان کہ رضاعت میں کس کی شہادت جائز ہو گی
حدیث نمبر: 6981
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَتَنَحَّيْتُ فَذَكَرْتُهُ لَهُ فَقَالَ فَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا وَفِي لَفْظٍ فَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ فَنَهَاهُ عَنْهَا
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے ام یحیی بنتِ ابی اہاب سے شادی کی، لیکن ایک سیاہ فام عورت نے آ کر کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، پھر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا، میں بھی اس جانب ہو گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کیا کریں، جبکہ اس کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اب کیا کریں،جبکہ دودھ پلانے کی بات کہی جا چکی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6981]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16253»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مرضِعہ (دودھ پلانے والی) کی شہادت قبول کی جائے گی اور اس پر عمل کرنا واجب ہو جائے گا، الا یہ کہ ایسے قرائن موجود ہوں، جو واضح طور پر مرضِعہ کے جھوٹا ہونے پر دلالت کر رہے ہوں، مثلا مدت ِ رضاعت میں بچے اور اِس خاتون کا ایک علاقے میں جمع ہی نہ ہونا۔
رضاعت ایک پوشیدہ چیز ہے، اس کے گواہ ممکن نہیں، نہ ایسے مواقع پر گواہ بنائے جاتے ہیں، لہذا رضاعت پر گواہی طلب کرنا فضول ہے، مُرضِعہ کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا، جس طرح پیدائش کے بارے میں دائی کی بات ہی معتبر ہوتی ہے اور اس سے گواہ طلب نہیں کیے جاتے، ان مواقع پر گواہی کو ضروری قرار دینا بہت سییقینی باتوں کو جھٹلانے کے مترادف ہو گا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکاح فسخ کرنے کا حکم دے دیا۔
امام ابو حنیفہ نے اس سلسلے میں دو مردوں اور دو عورتوں کی شہادت کو ضروری قرار دیا ہے، لیکن مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ سے یہ قید ثابت نہیں ہوتی۔
رضاعت ایک پوشیدہ چیز ہے، اس کے گواہ ممکن نہیں، نہ ایسے مواقع پر گواہ بنائے جاتے ہیں، لہذا رضاعت پر گواہی طلب کرنا فضول ہے، مُرضِعہ کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا، جس طرح پیدائش کے بارے میں دائی کی بات ہی معتبر ہوتی ہے اور اس سے گواہ طلب نہیں کیے جاتے، ان مواقع پر گواہی کو ضروری قرار دینا بہت سییقینی باتوں کو جھٹلانے کے مترادف ہو گا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکاح فسخ کرنے کا حکم دے دیا۔
امام ابو حنیفہ نے اس سلسلے میں دو مردوں اور دو عورتوں کی شہادت کو ضروری قرار دیا ہے، لیکن مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ سے یہ قید ثابت نہیں ہوتی۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16253
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6981 in Urdu