🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ مَنْ تَجُوزُ شَهَادَتْهُ فِي الرَّضَاعَةِ
اس چیز کا بیان کہ رضاعت میں کس کی شہادت جائز ہو گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6980
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فُلَانَةَ ابْنَةَ فُلَانٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَافِرَةٌ، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقُلْتُ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، فَقَالَ لِي: ( (كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ) ) .
۔ سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے ایک عورت سے شادی کی، تو ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور اس نے کہا: میں نے تم دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے، میں یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: میں نے فلاں کی بیٹی سے شادی کی ہے، اب ہمارے پاس ایک سیاہ فام عورت آئی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، جبکہ وہ بات کرنے والی کافرہ ہے، یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے رخ موڑ لیا، میں پھر آپ کے چہرۂ مبارک کے سامنے سے آ گیا اور میں نے کہا: وہ جھوٹ بول رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیسے جھوٹ بول رہی ہے، اب اس نے کہہ جو دیا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، اب تو اس بیوی کو چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6980]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5104، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16248»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6981
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَتَنَحَّيْتُ فَذَكَرْتُهُ لَهُ فَقَالَ فَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا وَفِي لَفْظٍ فَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ فَنَهَاهُ عَنْهَا
۔ (دوسری سند) سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے ام یحیی بنتِ ابی اہاب سے شادی کی، لیکن ایک سیاہ فام عورت نے آ کر کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، پھر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا، میں بھی اس جانب ہو گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کیا کریں، جبکہ اس کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اب کیا کریں،جبکہ دودھ پلانے کی بات کہی جا چکی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6981]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16253»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مرضِعہ (دودھ پلانے والی) کی شہادت قبول کی جائے گی اور اس پر عمل کرنا واجب ہو جائے گا، الا یہ کہ ایسے قرائن موجود ہوں، جو واضح طور پر مرضِعہ کے جھوٹا ہونے پر دلالت کر رہے ہوں، مثلا مدت ِ رضاعت میں بچے اور اِس خاتون کا ایک علاقے میں جمع ہی نہ ہونا۔
رضاعت ایک پوشیدہ چیز ہے، اس کے گواہ ممکن نہیں، نہ ایسے مواقع پر گواہ بنائے جاتے ہیں، لہذا رضاعت پر گواہی طلب کرنا فضول ہے، مُرضِعہ کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا، جس طرح پیدائش کے بارے میں دائی کی بات ہی معتبر ہوتی ہے اور اس سے گواہ طلب نہیں کیے جاتے، ان مواقع پر گواہی کو ضروری قرار دینا بہت سییقینی باتوں کو جھٹلانے کے مترادف ہو گا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکاح فسخ کرنے کا حکم دے دیا۔
امام ابو حنیفہ نے اس سلسلے میں دو مردوں اور دو عورتوں کی شہادت کو ضروری قرار دیا ہے، لیکن مذکورہ بالا حدیث ِ مبارکہ سے یہ قید ثابت نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6982
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَجُوزُ فِي الرَّضَاعَةِ مِنَ الشُّهُودِ قَالَ رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ رضاعت میں کتنے گواہ ہوسکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: ایک آدمی اور ایک عورت۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6982]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لضعف الشيخ من اھل نجران، ومحمد بن عبد الرحمن بن البيلماني مجمع علي ضعفه، واتھمه ابن حبان بالوضع، وابوه ضعّفه غير واحد، أخرجه عبد الرزاق: 13982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5877»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں