الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء فى نسخه والنهي عنه
نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6992
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعُسْفَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَوْ مَالِكُ بْنُ سُرَاقَةَ شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنَا تَعْلِيمَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا الْبَيْتَ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُنَّ قَدْ أَبَيْنَ إِلَّا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى قَالَ فَافْعَلُوا قَالَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَيَّ بُرْدٌ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ فَدَخَلْنَا عَلَى امْرَأَةٍ فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى بُرْدِ صَاحِبِي فَتَرَاهُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِي وَتَنْظُرُ إِلَيَّ فَتَرَانِي أَشَبَّ مِنْهُ فَقَالَتْ بُرْدٌ مَكَانَ بُرْدٍ وَاخْتَارَتْنِي فَتَزَوَّجْتُهَا عَشْرًا بِبُرْدِي فَبِتُّ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ فَلْيُعْطِهَا مَا سَمَّى لَهَا وَلَا يَسْتَرْجِعْ مِمَّا أَعْطَاهَا شَيْئًا وَلْيُفَارِقْهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَهَا عَلَيْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا سبرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے، جب ہم عسفان میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرہ حج میں داخل ہو چکا ہے۔ سراقہ بن مالک یا مالک بن سراقہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اس طرح تعلیم دیں، جس طرح اس قوم کو تعلیم دی جاتی ہے جو آج پیدا ہوئی ہو، سوال یہ ہے کہ ہمارا یہ عمرہ اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ جب ہم مکہ میں پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے کی اجازت دے دی۔ ہم آپ کی طرف واپس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! عورتوں نے انکار کر دیا ہے، البتہ وہ مقررہ وقت تک ماننے کے لیے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی کرلو۔ میں نکلا، میرے ساتھ ایک ساتھی بھی تھا، ایک چادر میرے اوپر تھی، ایک چادر اس کے اوپر تھی۔ ہم ایک عورت کے پاس گئے، ہم نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا، جب وہ عورت میرے ساتھی کی چادر کی جانب دیکھتی تواسے میری چادر سے عمدہ پاتی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے اس سے زیادہ جوان پاتی، بالآخر اس نے کہا: چادر تو چادر ہی ہے، آدمی کا بدل تو نہیں ہوتا، پس اس نے مجھے پسند کر لیا، میں نے اس سے دس دن کے لئے چادر کے عوض شادی کر لی، میں نے اس کے ساتھ ابھی تک ایک رات گزاری تھی کہ جب میں صبح کے وقت مسجد میں گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ تم میں سے جس نے بھی کسی عورت سے وقت مقررہ تک شادی کی ہے، جو عوض مقرر کیا ہے،وہ اسے دے دے اور جو دے رکھا ہے، وہ واپس نہ لے اور اسے جدا کر دے، اللہ تعالی نے اس متعہ والے نکاح کو تم پر قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6992]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 1801، وابن ماجه: 1962، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15419»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے کسی راوی سے وہم ہو گیا ہے، جس سے ایک حدیث دوسری حدیث کے ساتھ خلط ملط ہو گئی ہے، عورتوں سے نکاح متعہ کا یہ معاملہ فتح مکہ کے موقع پر پیش آیا تھا، نہ کہ حجۃ الوداع کے موقع پر، نیز فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ احرام کی حالت میں نہیں تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح