Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ما جاء فى نكاح المحلل والمحرم
حلالہ کرنے والے اور احرام والے آدمی کے نکاح کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6998
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے کیا جائے دونوں پر لعنت کی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6998]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البزار: 1442، والبيھقي: 7/ 208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8270»
وضاحت: فوائد: … حلال کرنے والا وہ شخص ہوتا ہے جو تین طلاق والی عورت سے نکاح اور پھر مباشرت کر کے اس کو اس کے پہلے خاوند کیلئے حلال کرتاہے۔ اس کاروائی میں عورت کی ذلت و توہین ہے، غیرت و حمیت کی کمی ہے اور اس میں شریک ہونے والوں کے مزاج کا گھٹیا اور کمینہ پن ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو کرائے کا سانڈ قرار دیا ہے۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِالتَّیْسِ الْمُسْتَعَارِ؟)) قَالُوا: بَلٰییَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ہُوَ الْمُحَلِّلُ لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَہُ۔)) … کیا میںتمہیں کرائے پر لیے سانڈ کی خبرد نہ دے دوں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ تعالی حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعت کی ہے۔ (ابن ماجہ: ۱۹۲۶)
معلوم ہوا کہ یہ حلالہ حرام فعل ہے، اس لیے جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ جو نکاح حلالہ کی نیت سے کیا جائے گا، وہ فاسد ہو گا۔
جس خاتون کو تین طلاقیں دے دی جائیں، اس کا شریعت ِ اسلامیہ میں حل یہ ہے کہ وہ سابق خاوند سے ناامید ہو جائے اور گھر بسانے کی نیت سے آگے کسی اور آدمی سے شادی کر لے، اگر اتفاق سے وہ آدمی بھی اس کو طلاق دے دے تو وہ عدت کے بعد سابقہ خاوند سے نیا نکاح کر سکتیہے، اللہ تعالی کے اس فرمان میں اسی مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: {فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗمِنْبَعْدُحَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ} … پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں، جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کر لینے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ وہ یہ جان لیں کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۳۰)
لیکنیہ ضروری ہے کہ دوسرا خاوند نکاح کے بعد حق زوجیت بھی ادا کرے۔

الحكم على الحديث: صحیح