الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب ما جاء فى نكاح الزاني المجلود لا ينكح
حد لگائے ہوئے زانی کا نکاح نہ کیا جائے
حدیث نمبر: 7008
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الزَّانِي الْمَجْلُودُ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مِثْلَهُ
۔ سعید بن ابی سعید مقبری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حد زدہ زانی نکاح نہیں کرتا، مگر اپنے جیسے سے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7008]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8283»
وضاحت: فوائد: … ایک مفہوم تو واضح ہے کہ جیسے بدکردار مرد اپنے جیسی بدکردار سے ہی شادی کرتا ہے،یہی معاملہ بری خاتون کا ہے، اس کا مفہوم یہ ہوا کہ جس مرد کا زنا ظاہر ہو چکا ہو، کوئی پاکدامن خاتون اس سے شادی نہ کرے، اسی طرح جس عورت کی بدکاری فاش ہو چکی ہو، کوئی پاکدامن مرد اس سے نکاح نہ کرے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ بدکار مردوں کو اپنے جیسی بدکار خواتین کی ہی تلاش ہوتی ہے، اسی طرح بری عورتوں کو برے مردوں سے ہی رغبت ہوتی ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ نابینا لڑکے کے والدین اس کا رشتہ مانگنے کے لیے بچی کے گھر گئے اور اس کے والدین سے بات کی، انھوں نے کہا: ہماری بچی ہر اعتبار سے ٹھیک ہے، بس صرف ”چشم گل“ ہے، جوابا لڑکے والوں نے کہا: اس میں تو کوئی بات نہیں، کیونکہ ہمارا لڑکا بھی ”بالکل“ ہے۔ بات یہ ہے کہ جیسے ”چشم گل“ کے نصیبے میں”بالکل“ آیا ہے، ایسے پاکدامن اور بدکار مردو زن کا مسئلہ ہے۔ (چشم گل سے مراد وہ بچی ہے، جو ایک آنکھ سے محروم ہو)۔
ایک کہاوت ہے کہ نابینا لڑکے کے والدین اس کا رشتہ مانگنے کے لیے بچی کے گھر گئے اور اس کے والدین سے بات کی، انھوں نے کہا: ہماری بچی ہر اعتبار سے ٹھیک ہے، بس صرف ”چشم گل“ ہے، جوابا لڑکے والوں نے کہا: اس میں تو کوئی بات نہیں، کیونکہ ہمارا لڑکا بھی ”بالکل“ ہے۔ بات یہ ہے کہ جیسے ”چشم گل“ کے نصیبے میں”بالکل“ آیا ہے، ایسے پاکدامن اور بدکار مردو زن کا مسئلہ ہے۔ (چشم گل سے مراد وہ بچی ہے، جو ایک آنکھ سے محروم ہو)۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7008 in Urdu