🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب من أسلم وتحته أختان أو أكثر من أربع وفيه العدد المباح للحر والعبد وما خص به النبى صلى الله عليه وسلم
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7016
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي امْرَأَتَانِ أُخْتَانِ فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُطَلِّقَ إِحْدَاهُمَا
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: جب میں اسلام لایا تو میری دو بیویاں تھیں اور وہ دونوں بہنیں تھیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ایک کو طلاق سے دوں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7016]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18205»
وضاحت: فوائد: … دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ} … (اور تم پر حرام کیا گیا ہے کہ) تم دو بہنوں کو جمع کرو۔ (سورۂ نسائ: ۲۳)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی مرضی کے مطابق کسی ایک کو اختیار کر سکتا ہے، یہ شرط نہیں ہے کہ اس نے دو بہنوں میں سے جس سے پہلے نکاح کیا تھا، اس کو ہی اپنے عقد میں برقرار رکھے۔
امام ابو حنیفہiکا نظریہیہ ہے کہ دو بہنوں کی صورت میں اس بہن کو جدا کر دیا جائے گا، جس سے بعد میں نکاح ہوا تھا اور چار سے زائد بیویوں کی صورت میں ان بیویوں کو الگ کر دیا جائے گا، جن سے چار کی تعداد کی تکمیل کے بعد نکاح ہوا تھا۔
لیکن مذکورہ بالا روایات میںیہ قید اور شرط نہیں پائی جاتی، لہذا خاوند کو اختیار حاصل ہے، وہ جسے چاہے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 7016 in Urdu