🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. في وفادة رجال من العرب لم يسموا
عرب کے ایسے لوگوں کی آمد کا بیان، جن کانام نہیں لیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 72
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَأَلِجُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِخَادِمِهِ: ( (اخْرُجِي إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَا يُحْسِنُ الْإِسْتِئْذَانَ، فَقُولِي لَهُ: فَلْيَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ! أَأَدْخُلُ؟) ) قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَأَدْخُلُ؟ قَالَ: فَأَذِنَ لِي، أَوْ قَالَ: فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ: بِمَ أَتَيْتَنَا بِهِ؟ قَالَ: ( (لَمْ آتِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، أَتَيْتُكُمْ بِأَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ) ) قَالَ شُعْبَةُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: ( (وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنْ تَدَعُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى، وَأَنْ تُصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَأَنْ تَصُومُوا مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا وَأَنْ تَحُجُّوا الْبَيْتَ وَأَنْ تَأْخُذُوا مِنْ مَالِ أَغْنِيَائِكُمْ فَتَرُدُّوهَا عَلَى فُقَرَائِكُمْ) ) قَالَ: فَقَالَ: هَلْ بَقِيَ مِنَ الْعِلْمِ شَيْءٌ لَا تَعْلَمُهُ؟ قَالَ: ( (قَدْ عَلَّمَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ}) )
ربعی بن حراش رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بنو عامر کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا: کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خادمہ سے فرمایا: اس بندے نے اچھے انداز میں اجازت نہیں لی، اس لیے اس کی طرف جاؤ اور اس کو کہو کہ وہ یوں کہے: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں۔ اس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ خود سن لیے اور اس نے کہا: السلام علیکم، میں اندر آ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دی، اس نے کہا: پس میں داخل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کون سی چیز لے کر ہمارے پاس آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی میں خیر ہی لے کر آیا ہوں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور تم لات و عزیٰ کو چھوڑ دو اور دن رات میں پانچ نمازیں ادا کرو، ایک سال میں ایک ماہ کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور اپنے مالدار لوگوں سے زکوٰۃ کا مال لے کر اپنے فقیروں میں تقسیم کر دو۔ اس بندے نے کہا: کیا عمل کی کوئی ایسی قسم بھی ہے، جو آپ نہیں جانتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے بھلائی کی تعلیم دی ہے، لیکن علم کی بعض ایسی صورتیں بھی ہیں کہ جن کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» (بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔) (سورہ لقمان: ۳۴) [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه مختصرا ابوداود: 5178، 5179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23515»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہے، ابتدا میں اجازت لینے کا جو انداز بتایا گیا ہے، عوام و خواص اس سے غافل ہیں، بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ دروازے پر معمولی دستک دے کر دروازہ کھول دیتے ہیں اور اندر گھس آتے ہیں، یہ ان کا خود ساختہ انداز ہے، شریعت کا تقاضا نہیں ہے، اسی طرح آخری حصے سے پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جس چیز کی بذریعہ وحی تعلیم دی جاتی تھی، اس کا علم ہوتا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 72 in Urdu