الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ إِنَّ عِدَّةَ الْحَامِلِ بِوَضْعِ الْحَمَلِ سَوَاءٌ كَانَتْ مُطَلَّقَةٌ أَوْ مُتَوَفَّى عَنْهَا لِقَوْلِ اللهِ: «وَالاتُ الاحمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمَلَهُنَّ»
حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
حدیث نمبر: 7232
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَلٰى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذٰلِكَ فَقَالَتْ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالْآخَرُ كَهْلٌ فَحَطَّتْ إِلٰى الشَّابِّ فَقَالَ الْكَهْلُ لَمْ تَحِلَّ وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا وَرَجَا إِذَا جَائَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ فَجَائَتْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ۔
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس عورت کی عدت کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو اوروہ حاملہ ہو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: دو عدتوں میں سے دور والی عدت ہو گی، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب وہ بچے کوجنم دے گی تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جب سیدہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے نصف ماہ بعد بچے کو جنم دیا تو اسے دو آدمیوں نے پیغام نکاح بھیجا، ان میں سے ایک نوجوان تھا اور دوسرا ذرا ادھیڑ عمر تھا، اس خاتون کا میلان یہ تھا کہ وہ نوجوان سے نکاح کرے، یہ صورت حال دیکھ کر ادھیڑعمر کہنے لگا کہ یہ تو ابھی عدت سے ہی باہر نہیں ہوئی، دراصل اس عورت کے گھروالے وہاں موجود نہ تھے اور اس بوڑھے کو امید تھی کہ جب اس کے گھروالے آ جائیں گے تو وہ اس ادھیڑ عمر کو ترجیح دیں گے، اس کی بات سن کر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور فتویٰ پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری عدت ختم ہو چکی ہے،تو جس سے چاہتی ہے، نکاح کر سکتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7232]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 6/ 191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27251»
وضاحت: فوائد: … دو عدتوں میں سے دور کی عدت کا مطلب یہ ہے کہ بیوہ حاملہ کی عدت دو قسم کی ہے: وضع حمل اور چار ماہ دس دن، اب اگر چار ماہ دس دن سے پہلے بچہ جنم دے تو وہ چار ماہ دس دن مکمل کرے اور اگر چار ماہ دس دن کے بعد تک حمل جائے تو پھر عدت وضع حمل ہی ہو گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7232 in Urdu