الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ جَوَازِ إِنْفَاقِ الْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا بِغَيْرِ عِلْمِهِ إِذَا مَنْعَهَا الْكِفَايَةُ
اگر خاوند خرچہ پورا نہ دے تو بیوی بغیر پوچھے خاوند کے مال سے پورا لے سکتی ہے
حدیث نمبر: 7263
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ قَالَ خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ
۔ (دوسری سند)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ابو سفیان رضی اللہ عنہ ایک کنجوس آدمی ہے، وہ مجھے اتنا خرچہ نہیں دیتا جو میری اولاد کے لیے کافی ہو، کفایت اس صورت میں کرتا ہے کہ میں اس کو بتلائے بغیر ہی ان کے مال میں سے کچھ لے لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجھے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو اسے اچھے طریقہ سے لے سکتی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7263]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24735»
وضاحت: فوائد: … ایسی خاتون کے لیے انتہائی ضروری احتیاط یہ ہے کہ وہ جو خرچ لے، وہ عرف اور معتدل معاشرے کے مطابق ہو، مثلا اس کی خاوند کی حیثیت کے لوگون کا کھانا پینا، لباس، بچوں کی تعلیم وغیرہ کیسے ہے، اگر اس نے معروف طریقے سے زیادہ خرچ لیا تو وہ خائن قرار پائے گی، بہتر ہے کہ ایسی خاتون کسی سمجھدار اور راز دار آدمی سے مشورہ کر لے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24735
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7263 in Urdu