الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب جواز إنفاق المرأة من مال زوجها بغير علمه إذا منعها الكفاية
اگر خاوند خرچہ پورا نہ دے تو بیوی بغیر پوچھے خاوند کے مال سے پورا لے سکتی ہے
حدیث نمبر: 7262
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يُذِلَّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ وَمَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يُعِزَّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي عَلَيْهِمْ بِالْمَعْرُوفِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ہند رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! روئے زمین کے خیموں میں سے آپ کے خیمے سے بڑھ کر کوئی خیمہ ایسا نہ تھا جس کی ذلت مجھے پسند تھی، یعنی سب سے زیادہ آپ کے خیمہ والے تھے جنہیں میں ذلیل دیکھنا چاہتی تھی کہ اللہ انہیں ذلیل کرے، لیکن آج روئے زمین پر کوئی خیمے والے ایسے نہیں جن کے متعلق میں پسند کرتی ہوں کہ انہیں اللہ تعالیٰ عزت دے یعنی اب آپ کے خیمے والے ہی معزز دیکھنا چاہتی ہوں، اس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہی کیفیت دونوں طرف سے تھی، اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! پھر ہند نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو سفیان کنجوس آدمی ہیں، بچوں کا پورا خرچہ نہیں دیتے، اس میں کوئی حرج تو نہیں اگر ان کی اجازت کے بغیر میں بچوں کی عیالداری کے لیے ان کے مال میں سے کچھ لے کر خرچ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ اچھے طریقہ سے خرچ کرنے کے لیے لے لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7262]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2460، 5359، ومسلم: 1714، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25888 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26413»
الحكم على الحديث: صحیح